تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 18

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام IA سورة الفاتحة اور کفایت شعاری کے لکھی ہیں اور اگر ہم قرآن شریف کی ان تمام دوسری خوبیوں کو بھی کہ جو اس میں پائی جاتی ہیں نظیر طلب کرنے کے لئے لازمی شرط ٹھہر اویں مثلاً اپنے مخالفوں کو یہ کہیں کہ جیسا قرآن شریف تمام حقائق اور معارف دینی پر محیط اور مشتمل ہے اور کوئی دینی صداقت اس سے باہر نہیں اور جیسا وہ صدہا امور غیبیہ اور پیشگوئیوں پر احاطہ رکھتا ہے اور پیشگوئیاں بھی ایسی قادرانہ کہ جن میں اپنی عزت اور دشمن کی ذلت اور اپنا اقبال اور دشمن کا ادبار اور اپنی فتح اور دشمن کی شکست پائی جاتی ہے۔یہ تمام خوبیاں بھی ہمراہ متذکرہ بالا خوبیوں کے اپنے معارضانہ کلام میں پیش کر کے دکھلاویں تو اس شرط سے ان کو تباہی پر تباہی اور موت پر موت آوے گی۔مگر چونکہ جس قدر پہلے اس سے قرآن شریف کی خوبیاں لکھی گئی ہیں وہی دشمن کو رباطن کے ملزم اور لاجواب اور عاجز کرنے کے لئے کافی ہیں اور انہیں سے ہمارے مخالفوں پر وہ حالت وارد ہوگی جس سے مردوں سے پر لے پار ہو جائیں گے۔اس لئے قرآن شریف کی تمام خوبیوں کو نظیر طلب کرنے کے لئے پیش کرنا غیر ضروری ہے اور نیز تمام خوبیوں کے لکھنے سے کتاب میں بھی بہت سا طول ہوجائے گا۔سواسی قدر قتل موڈی کے لئے کافی ہتھیار سمجھ کر پیش کیا گیا۔اب با وصف اس کے کہ بتامتر رعایت و تخفیف قرآن شریف کی کسی آقال قلیل سورۃ کی نظیر مخالفوں سے طلب کی جاتی ہے مگر پھر بھی ہر ایک باخبر آدمی پر ظاہر ہے کہ مخالفین با وجود سخت حرص اور شدت عناد اور پرلے درجہ کی مخالفت اور عداوت کے مقابلہ اور معارضہ سے قدیم سے عاجز رہے ہیں اور اب بھی عاجز ہیں اور کسی کو دم مارنے کی جگہ نہیں اور باوجود اس بات کے کہ اس مقابلہ سے ان کا عاجز رہنا ان کو ذلیل بناتا ہے، جہنمی ٹھہراتا ہے، کافر اور بے ایمان کا ان کو لقب دیتا ہے، بے حیا اور بے شرم ان کا نام رکھتا ہے۔مگر مُردہ کی طرح ان کے مونہہ سے کوئی آواز نہیں نکلتی۔پس لا جواب رہنے کی ساری ذلتوں کو قبول کرنا اور تمام ذلیل ناموں کو اپنے لئے روا رکھنا اور تمام قسم کی بے حیائی اور بے شرمی کی خس و خاشاک کو اپنے سر پر اٹھا لینا اس بات پر نہایت روشن دلیل ہے کہ ان ذلیل چمگادڑوں کی اس آفتاب حقیقت کے آگے کچھ پیش نہیں جاتی۔پس جبکہ اُس آفتاب صداقت کی اس قدر تیز شعائیں چاروں طرف سے چھوٹ رہی ہیں کہ ان کے سامنے ہمارے دشمن خفاش سیرت اندھے ہورہے ہیں تو اس صورت میں یہ بالکل مکابرہ اور سخت جہالت ہے کہ گلاب کے پھول کی خوبیوں کو کہ جو بہ نسبت قرآنی خوبیوں کے ضعیف اور کمزور اور قلیل الثبوت ہیں اس مرتبہ بے نظیری پر سمجھا جائے کہ انسانی قوتیں ان کی مثل بنانے سے عاجز ہیں مگران اعلیٰ درجہ کی خوبیوں کو کہ جو کئی درجہ گلاب کے پھول کی ظاہری و باطنی خوبیوں سے افضل و بہتر اور قومی الثبوت