تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 385

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۵ سورة الفاتحة دو میں ہمیں سکھائی ہے اور وہ یہ ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔تمام پاک تعریفیں جو ہو سکتی ہیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ ـ وہی خدا جو ہمارے اعمال سے پہلے ہمارے لئے رحمت کا سامان میسر کرنے والا ہے اور ہمارے اعمال کے بعد رحمت کے ساتھ جزا دینے والا ہے ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ۔وہ خدا جو جزاء کے دن کا وہی ایک مالک ہے۔کسی اور کو وہ دن نہیں سونپا گیا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اے وہ جو ان تعریفوں کا جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں۔اور ہم ہر ایک کام میں توفیق تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس جگہ ہم کے لفظ سے پرستش کا اقرار کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے تمام قومی تیری پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے آستانہ پر جھکے ہوئے ہیں کیونکہ انسان باعتبار اپنے اندرونی قومی کے ایک جماعت اور ایک اُمت ہے اور اس طرح پر تمام قومی کا خدا کو سجدہ کرنا یہی وہ حالت ہے جس کو اسلام کہتے ہیں۔اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا اور اس پر ثابت قدم کر کے ان لوگوں کی راہ دکھلا جن پر تیرا انعام و اکرام ہے اور تیرے مورد فضل و کرم ہو گئے ہیں۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَ لا الضالین اور ہمیں ان لوگوں کی راہوں سے بچا جن پر تیرا غضب ہے اور جو تجھ تک نہیں پہنچ سکے اور راہ کو بھول گئے۔آمین۔اے خدا! ایسا ہی کر۔یہ آیات سمجھا رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے انعامات جو دوسرے لفظوں میں فیوض کہلاتے ہیں انہی پر نازل ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی خدا کی راہ میں قربانی دے کر اور اپنا تمام وجود اس کی راہ میں وقف کر کے اور اس کی رضا میں محو ہو کر پھر اس وجہ سے دعا میں لگے رہتے ہیں کہ تا جو کچھ انسان کو روحانی نعمتوں اور خدا کے قرب اور وصال اور اس کے مکالمات اور مخاطبات میں سے مل سکتا ہے وہ سب ان کو ملے اور اس دعا کے ساتھ اپنے تمام قومی سے عبادت بجالاتے ہیں اور گناہ سے پر ہیز کرتے اور آستانہ الہی پر پڑے رہتے ہیں اور جہاں تک ان کے لئے ممکن ہے اپنے تئیں بدی سے بچاتے ہیں اور غضب الہی کی راہوں سے دور رہتے ہیں۔سو چونکہ وہ ایک اعلیٰ ہمت اور صدق کے ساتھ خدا کو ڈھونڈتے ہیں اس لئے اس کو پالیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی پاک معرفت کے پیالوں سے سیراب کئے جاتے ہیں۔اس آیت میں جو استقامت کا ذکر فرمایا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچا اور کامل فیض جو روحانی عالم تک پہنچاتا ہے کامل استقامت سے وابستہ ہے اور کامل استقامت سے مراد ایک ایسی حالت صدق و وفا ہے جس کو کوئی امتحان ضرر نہ پہنچا سکے۔یعنی ایسا پیوند ہو جس کو