تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 384

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۴ سورة الفاتحة اخَرَ وَ بَالَغُوا فِي الْإِطْرَاءِ وَاتَّبَعُوا اس کی تعریف میں بڑا مبالغہ کیا ہے۔انہوں نے اپنی الْأَهْوَاء وَ بَعُدُوا مِنْ عَيْنِ الْحَيَاةِ - خواہشات کی پیروی کی اور زندگی کے چشمہ سے دور نکل گئے وَهَلَكُوا كَمَا يملك الضال في اور اس طرح ہلاک ہو گئے جس طرح ایک راہ گم کردہ شخص بیابان میں ہلاک ہو جاتا ہے۔الْمَوْمَاة وَإِنَّ الْيَهُودَ هَلَكُوا فِي أَوَّلِ أَمْرِهِمْ اور یہود تو اپنی ابتدا میں ہی ہلاک ہو گئے تھے اور وَبَاءُوا بِغَضَبٍ من الله الْقَهَّارِ۔و خدائے قہار کے غضب کے مورد بن گئے تھے۔نصاری چند النّصَارَى سَلَكُوا قَلِيلاً ثُمَّ ضَلُّوا قدم چلے پھر گمراہ ہو گئے اور روحانی پانی کھو دیا اور آخر کار وَفَقَدُوا الْمَاءَ فَمَاتُوا فِي فَلَاةٍ ممن لاچار ہو کر بیابانوں میں ہی مر گئے۔پس خلاصہ بیان یہ ہے الْاِضْطِرَارِ فَحَاصِلُ هَذَا الْبَيَانِ أَنَّ کہ اللہ تعالیٰ نے دو احمد پیدا کئے (ایک ) اسلام کے ابتدائی الله خَلَقَ أَحْمَدَيْنِ في صَدْرِ الْإِسْلَامِ زمانہ میں اور (ایک ) آخری زمانہ میں۔اور اللہ تعالی نے وَفِي آخِرِ الزَّمَانِ وَ أَشَارَ إِلَيْهِمَا اہل عرفان کے لئے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے يتَكْرَارٍ لفظ الْحَمْد فِي أَوَّلِ الْفَاتِحَةِ وفي آخر میں الحمد کا لفظا و معنا تکرار کر کے ان دونوں (احمدوں ) آخِرِهَا لِأَهْلِ الْعِرْفَانِ۔وَفَعَلَ كَذَالِک کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی لِيَرُدَّ عَلَى النَّصْرَانِيِّينَ وَأَنْزَلَ أَحْمَدَینِ تردید کے لئے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو احمد آسمان سے مِنَ السَّمَاءِ لِيَكُونَا كَالْجِدَارَينِ لِحِمَايَةِ اتارے تا وہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی حمایت کے لئے دو الأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ۔دیواروں کی طرح ہو جائیں۔( ترجمہ از مرتب ) اعجاز امسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۹۵ تا ۱۹۸) ہم اس حی و قیوم کومحض اپنی ہی تدبیروں سے ہر گز نہیں پاسکتے۔بلکہ اس راہ میں صراط مستقیم صرف یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی زندگی مع اپنی تمام قوتوں کے خدا تعالی کی راہ میں وقف کر کے پھر خدا کے وصال کے لئے دعا میں لگے رہیں تا خدا کو خدا ہی کے ذریعہ سے پاویں۔ایک پیاری دعا اور سب سے زیادہ پیاری دُعا جو عین محل اور موقع سوال کا ہمیں سکھاتی ہے اور فطرت کے روحانی جوش کا نقشہ ہمارے سامنے رکھتی ہے وہ دُعا ہے جو خدائے کریم نے اپنی پاک کتاب قرآن شریف میں یعنی سورہ فاتحہ