تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 383
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۳ سورة الفاتحة أَيُّهَا الْعِبَادُ اعْرِفُونِي بِصِفَاتِي وَامِنُوا ني | اے میرے بندو! مجھے میری صفات کے ذریعہ پہچانو اور لِكَمَالَاتِي وَانْظُرُوا إِلَى السَّمَاوَاتِ میرے کمالات کی بناء پر مجھ پر ایمان لاؤ اور آسمانوں اور اور وَالْأَرْضِينَ۔هَلْ تَجِدُونَ كَمِثْلِی رَب زمینوں پر غور کرو۔کیا تم میرے جیسا کسی اور کو ربّ الْعَالَمِينَ وَأَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَمَالِك العالمین اور ارحم الراحمین اور مالک یوم الدین پاتے ہو۔يَوْمِ الدِّينَ۔وَمَعَ ذَالِكَ إشَارَةٌ إلى أَن مزید برآں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تمہارا معبود ایسا إلهَكُمْ إِلهُ جَمَعَ جَميعَ أَنْوَاعِ الْحَمْدِ في معبود ہے جس کی ذات ہر قسم کی حمد کی جامع ہے اور اپنی ذَاتِهِ۔وَتَفَرَّدَ فِي سَائِرِ مَحَاسِنِه وصفاته تمام خوبیوں اور صفتوں میں منفرد اور یگانہ ہے۔اس طرف وَإِشَارَةٌ إِلى أَنَّهُ تَعَالَى مُنَزَةٌ شَأْنُهُ عَنْ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان ہر نقص ہر تغیر اور ہر عیب كُلِّ نَقْصٍ وَحُؤُوْلِ حَالَةٍ وَلُحُوقِ وَضَمَةٍ کے لاحق ہونے سے پاک ہے جو مخلوق میں پایا جاتا ہے كَالْمَخْلُوقِيْنَ بَلْ هُوَ الْكَامِل بلکہ وہ اپنی ذات میں قابل تعریف ہے اور وہ حد بندی الْمَحْمُودُ۔وَلَا تُحِيْطَهُ الْحُدُودُ وَلَهُ سے بالا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بعثت الْحَمْدُ في الأولى وَ الْآخِرَةِ وَمِنَ الْأَزل اور پچھلی بعثت میں بلکہ ازل سے ابدالآباد تک سب تعریف إلى أَبَدِ الأبيين۔ولذالك سمى اللهُ نَبِيَّة اس کے لئے ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا نام أَحْمَدَ وَكَذَالِكَ سلمی بِهِ الْمَسِيحَ احمد رکھا اور اسی طرح مسیح موعود کا بھی یہی نام رکھا تا اس الْمَوْعُودَ لِيُشير إلى مَا تَعَمَّدَ وَإِنَّ الله نے جو قصد کیا تھا اس کی طرف اشارہ فرمائے۔اور اللہ كَتَبَ الْحَمْدَ عَلَى رَأْسِ الْفَاتِحَةِ ثُمَّ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے ابتداء میں الحمد لکھا ہے پھر اس أَشَارَ إِلَى الْحَمْدِ فِي آخِرِ هذهِ السُّورَةِ فَإِنَّ سورت کے آخر میں بھی الحمد کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ اس أخرَهَا لَفْظُ الضَّالِّينَ۔وَهُمُ النَّصَارَى کے آخر میں الضالین کا لفظ ہے اور وہ نصاریٰ ہیں جنہوں الَّذِينَ أَعْرَضُوا عَنْ حَمد الله و أعطوا نے خدا تعالیٰ کی حمد کرنے سے منہ موڑ لیا اور اس کا حق حَقَّهُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمَخْلُوقِيْنَ فَإِنَّ حَقِيقَةً مخلوق کے ایک فرد کو دے دیا۔کیونکہ گمراہی کی حقیقت یہ الضَّلالَةِ هِيَ تَرْك الْمَحْمُودِ الَّذِی ہے کہ اس قابل تعریف ہستی کو جو حمد وثنا کی مستحق ہے چھوڑ يَسْتَحِقُ الْحَمْدَ وَالثَّنَاءِ كَمَا فَعَلَ دیا جائے۔جیسا کہ نصاری نے کیا ہے۔انہوں نے اپنے النَّصَارَى وَنَحتُوا مِنْ عِنْدِهِمْ مَحْمُودًا پاس سے ایک اور قابلِ تعریف معبود بنالیا اور انہوں نے