تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 382
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۲ سورة الفاتحة اپنے سچے طالبوں اور صادقوں کو بدنصیب ہی رکھنا چاہتا ہے؟ کس قدر ظلم ہے اگر یہ خدا کی نسبت قرار دیا جاوے کہ وہ نری لفاظی سے ہی کام لیتا ہے۔حقیقت یہ نہیں ہے یہ ان لوگوں کی اپنی خیالی باتیں ہیں۔قرآن شریف در حقیقت انسان کو ان مراتب اور اعلیٰ مدارج پر پہنچانا چاہتا ہے جو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق لوگوں کو دیئے گئے تھے اور کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوتا جبکہ خدا تعالیٰ کے کلام کے زندہ ثبوت موجود نہ ہوں۔ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں ہے کہ آریوں کی طرح کوئی خدا کا پریمی اور بھگت کتنی ہی دعائیں کرے اور رورو کر اپنی جان کھوئے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہو۔اسلام خشک مذہب نہیں ہے۔اسلام ہمیشہ ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے نشانات اس کے ساتھ ہیں۔پیچھے رہے ہوئے نہیں ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۶ مؤرخہ ۳۰ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۳) دنیا دار دنیا کے ہم وغم میں ایسا غرق ہوتا ہے کہ انجام کار اسے بھولے سے بھی خیال نہیں گزرتا اور جس طرح ایک خارش والا بس نہیں کرتا جب تک کہ خون نہ نکل آوے اسی طرح وہ بھی سیر نہیں ہوتا اور کتے کی طرح اپنا خون آپ پیتا ہے اور جانتا نہیں کہ دنیا کی زندگی چیز ہی کیا ہے۔اسی واسطے اللہ کریم نے مسلمانوں کو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالین والی دعا سکھائی ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کے کیڑے ہوتے ہیں اور اسی دنیا کی خاطر رسولوں اور نبیوں کا انکار کر دیتے ہیں اور پھر اسی دنیا میں ہی ان پر عذاب نازل ہوتا ہے ان میں شامل ہونے سے بچا۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۷) سورۃ فاتحہ کی بعض مختصر تفاسیر اعْلَمْ أَنَّ اللهَ تَعَالَى افتتح كتابة جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو شکر اور ثناء سے افْتَتَحَ بِالْحَمْدِ لَا بِالشُّكْرِ وَلَا بِالثَّنَاءِ۔لان نہیں بلکہ حمد سے شروع کیا ہے کیونکہ حمد کا لفظ ان دونوں الْحَمد أَتَم وَأَكْمَلُ مِنْهُمَا وَ أَحَاطَهُمَا سے زیادہ مکمل اور جامع ہے اور ان دونوں پر پورے طور ، بِالْإِسْتيْفَاءِ۔ثُمَّ ذَالِك رَدُّ عَلى عَبَدَةِ پر محیط ہے۔پھر لفظ الحمد مخلوق کے پرستاروں اور بتوں الْمَخْلُوقِينَ وَالْأَوْثَانِ فَإِنَّهُمْ يَحْمَدُونَ کے پوجاریوں کی تردید ہے۔کیونکہ وہ اپنے باطل طَوَاغِيْتَهُمْ وَيَنْسِبُونَ إِلَيْهَا صِفَاتِ معبودوں کی حمد کرتے ہیں۔اور خدائے رحمان کی صفات الرَّحْمَنِ وَ فِي الْحَمْدِ إِشَارَةُ أُخرى۔ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔الحمد میں ایک اور وَهِيَ أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَقُولُ اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ