تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 381

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۱ سورة الفاتحة اُسے خیال آتا ہے کہ کتنا بڑا خدا ہے جو کہ رب ہے رحمان ہے رحیم ہے اب تک اُسے غائب مانتا چلا آ رہا ہے اور پھر اُسے حاضر ناظر جان کر پکارتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی ایسی راہ جو کہ بالکل سیدھی ہے اس میں کسی قسم کی بھی نہیں ہے۔ایک راہ اندھوں کی ہوتی ہے کہ محنتیں کر کر کے تھک جاتے ہیں اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا اور ایک وہ راہ کہ محنت کرنے سے اُس پر نتیجہ مرتب ہوتا ہے پھر آگے صِرَاط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا اور وہ وہی صِرَاطَ الْمُسْتَقِیم ہے جس پر چلنے سے انعام مرتب ہوتے ہیں پھر غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم نہ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا غضب ہوا اور وَلَا الضَّالِّينَ اور نہ ان کی جو دور جا پڑے ہیں۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم سے کل دنیا اور دین کے کاموں کی راہ مراد ہے مثلاً ایک طبیب جب کسی کا علاج کرتا ہے تو جب تک اُسے ایک صراط مستقیم ہاتھ نہ آوے علاج نہیں کر سکتا اسی طرح تمام وکیلوں اور ہر پیشہ اور علم کی ایک صراط مستقیم ہے کہ جب وہ ہاتھ آ جاتی ہے تو پھر کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔اس مقام پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ انبیاء کو اس دعا کی کیوں ضرورت تھی وہ تو پیشتر ہی سے صراط مستقیم پر ہوتے ہیں۔تلمیذ الرحمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ) وہ یہ دُعا ترقی مراتب اور درجات کے لئے طلب کرتے ہیں بلکہ یہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو آخرۃ میں مومن بھی مانگیں گے کیونکہ جیسے اللہ تعالیٰ کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کے پاس درجات اور مراتب کی ترقی کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔( بدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲۸،۲۷) اب جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں تین گروہ کا ذکر ہے۔ان تین کا ہی مزا چکھا دے گا۔اس میں جو آخر تھے ، وہ مقدم ہو گئے یعنی ضالین۔اسلام وہ تھا کہ ایک شخص مرتد ہوجاتا تو قیامت برپا ہو جاتی تھی، مگر اب بین لاکھ عیسائی ہو چکے ہیں اور خود نا پاک ہو کر پاک وجود کو گالیاں دی جاتی ہیں۔پھر مغضوب کا نمونہ طاعون سے دکھایا جارہا ہے۔اس کے بعد انْعَمتَ عَلَيْهِمْ کا گروہ ہوگا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مؤرخه ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۱ ء صفحه ۵) انہوں نے (آجکل کے موحد کہلانے والے ) بجز خشک لفاظی کے اور کوئی فائدہ اسلام کو نہیں پہنچایا۔اپنے طریق عمل سے اسلام کو مردہ مذہب ثابت کرنا چاہا ہے جبکہ یہ کہ دیا کہ اب کوئی ایسا مرد نہیں ہے جس کے ساتھ زندہ نشانات اسلام کی تائید میں ہوں۔افسوس! ان لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوا۔یہ کیوں نہیں سمجھتے ؟ کیا قرآن میں جو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہا گیا تھا، یہ یونہی ایک بے معنی اور بے مطلب بات تھی اور نرا ایک قصہ ہی قصہ ہے؟ کیا وہ انعام کچھ نہ تھا؟ خدا نے نرا دھوکہ ہی دیا ہے؟ اور وہ