تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 17
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷ سورة الفاتحة اور پھر اس میں یہ صفت پاک دیکھی کہ وہ بطور ہنرل اور فضول گوئی کے نازل نہیں ہوا بلکہ عین ضرورت حقہ کے وقت نازل ہوا تو انہوں نے ان تمام کمالات کے مشاہدہ کرنے سے بے اختیار اس کی بے مثل عظمت کو تسلیم کر لیا اور ان میں سے جو لوگ بباعث شقاوت از کی نعمت ایمان سے محروم رہے ان کے دلوں پر بھی اس قدر ہیبت اور رعب اس بے مثل کلام کا پڑا کہ انہوں نے بھی مبہوت اور سراسیمہ ہوکر یہ کہا کہ یہ تو سحر مین ہے۔اور پھر منصف کو اس بات سے بھی قرآن شریف کے بے مثل و مانند ہونے پر ایک قوی دلیل ملتی ہے اور روشن ثبوت ہاتھ میں آتا ہے کہ باوجود اس کے کہ مخالفین کو تیرہ سو برس سے خود قرآن شریف مقابلہ کرنے کی سخت غیرت دلاتا ہے اور لاجواب رہ کر مخالفت اور انکار کرنے والوں کا نام شریر اور پلید اور لعنتی اور جہنمی رکھتا ہے۔مگر پھر بھی مخالفین نے نامردوں اور محنتوں کی طرح کمال بے شرمی اور بے حیائی سے اس تمام ذلت اور بے آبروئی اور بے عزتی کو اپنے لئے منظور کیا اور یہ روا رکھا کہ ان کا نام جھوٹا اور ذلیل اور بے حیا اور خبیث اور پلید اور شریر اور بے ایمان اور جہنمی رکھا جاوے مگر ایک قلیل المقدار سورۃ کا مقابلہ نہ کر سکے اور نہ ان خوبیوں اور صفتوں اور عظمتوں اور صداقتوں میں کچھ نقص نکال سکے کہ جن کو کلام الہی نے پیش کیا ہے۔حالانکہ ہمارے مخالفین پر در حالت انکار لازم تھا اور اب بھی لازم ہے کہ اگر وہ اپنے کفر اور بے ایمانی کو چھوڑ نا نہیں چاہتے تو وہ قرآن شریف کی کسی سورۃ کی نظیر پیش کریں اور کوئی ایسا کلام بطور معارضہ ہمارے سامنے لاویں کہ جس میں یہ تمام ظاہری و باطنی خوبیاں پائی جاتی ہوں کہ جو قرآن شریف کی ہر یک اقل قلیل سورۃ میں پائی جاتی ہیں یعنی عبارت اس کی ایسی اعلیٰ درجہ کی بلاغت پر با وصف التزام راستی اور صداقت اور باوصف التزام ضرورت حقہ کے واقعہ ہو کہ ہر گز کسی بشر کے لئے ممکن نہ ہو کہ وہ معانی کسی دوسری ایسی ہی فصیح عبارت میں لا سکے اور مضمون اُس کا نہایت اعلیٰ درجہ کی صداقتوں پر مشتمل ہو اور پھر وہ صداقتیں بھی ایسی ہوں کہ فضول پر طور پر نہ لکھی گئی ہوں بلکہ کمال درجہ کی ضرورت نے ان کا لکھنا واجب کیا ہو اور نیز وہ صداقتیں ایسی ہوں کہ قبل ان کے ظہور کے تمام دنیا ان سے بے خبر ہو اور ان کا ظہور ایک نئی نعمت کی طرح ہو اور پھر ان تمام خوبیوں کے ساتھ ایک یہ روحانی خاصہ بھی ان میں موجود ہو کہ قرآن شریف کی طرح ان میں وہ صریح تاثیریں بھی پائی جائیں جن کا ثبوت ہم نے اس کتاب میں دے دیا ہے اور ہر وقت طالب حق کے لئے تازہ سے تازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں اور جب تک کوئی معارض ایسی نظیر پیش نہ کرے تب تک اسی کا عاجز رہنا قرآن شریف کی بے نظیری کو ثابت کرتا ہے۔اور یہ وجوہ بے نظیری قرآن شریف کی جو اس جگہ لکھی گئی یہ تو ہم نے بطور تنزل