تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 375
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۵ سورة الفاتحة ہو نہیں سکتی جیسا کہ حدیث لا صَلوةَ إِلَّا بِالْفَاتِحَةِ سے ظاہر ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ دنیا میں ہزار ہامذہب پھیلے ہوئے ہیں جیسا کہ پارسی یعنی مجوسی اور براہمہ یعنی ہندو مذہب اور بدھ مذہب جو ایک بڑے حصہ دنیا پر قبضہ رکھتا ہے اور چینی مذہب جس میں کروڑ ہا لوگ داخل ہیں اور ایسا ہی تمام بت پرست جو تعداد میں سب مذہبوں سے زیادہ ہیں اور یہ تمام مذہب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑے زور و جوش سے پھیلے ہوئے تھے اور عیسائی مذہب ان کے نزدیک ایسا تھا جیسا کہ ایک پہاڑ کے مقابل پر ایک تنگا۔پھر کیا وجہ کہ سورۃ فاتحہ میں یہ دُعا نہیں سکھلائی کہ مثلاً خدا چینی مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا مجوسیوں کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا بدھ مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا آریہ مذہب کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے یا دوسرے بت پرستوں کی ضلالتوں سے پناہ میں رکھے بلکہ یہ فرمایا گیا کہ تم دُعا کرتے رہو کہ عیسائی مذہب کی ضلالتوں سے محفوظ رہو۔اس میں کیا بھید ہے؟ اور عیسائی مذہب میں کونسا عظیم الشان فتنہ آئندہ کسی زمانہ میں پیدا ہونے والا تھا جس سے بچنے کے لئے زمین کے تمام مسلمانوں کو تاکید کی گئی۔پس سمجھو اور یا درکھو کہ یہ دُعا خدا کے اُس علم کے مطابق ہے کہ جو اُس کو آخری زمانہ کی نسبت تھا۔وہ جانتا تھا کہ یہ تمام مذہب بت پرستوں اور چینیوں اور پارسیوں اور ہندوؤں وغیرہ کے تنزل پر ہیں اور اُن کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں دکھلایا جائے گا جو اسلام کو خطرہ میں ڈالے مگر عیسائیت کے لئے وہ زمانہ آتا جاتا ہے کہ اُس کی حمایت میں بڑے بڑے جوش دکھلائے جائیں گے اور کروڑہا روپیہ سے اور ہر ایک تدبیر اور ہر ایک مکر اور حیلہ سے اُس کی ترقی کے لئے قدم اٹھایا جائے گا اور یہ تمنا کی جائے گی کہ تمام دنیا مسیح پرست ہو جائے تب وہ دن اسلام کے لئے سخت دن ہوں گے اور بڑے ابتلا کے دن ہوں گے۔سواب یہ وہی فتنہ کا زمانہ ہے جس میں تم آج ہو۔تیرہ سو برس کی پیشگوئی جو سورۃ فاتحہ میں تھی آج تم میں اور تمہارے ملک میں پوری ہوئی اور اس فتنہ کی جڑ مشرق ہی نکلا۔اور جیسا کہ اس فتنہ کا ذکر قرآن کے ابتدا میں فرمایا گیا ایسا ہی قرآن شریف کے انتہا میں بھی ذکر فرما دیا تا یہ امر مؤکند ہو کر دلوں میں بیٹھ جائے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۷ تا ۲۲۰) سورۃ فاتحیری تعلیم ہی نہیں بلکہ اس میں ایک بڑی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا نے اپنی چاروں صفات ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت، مالکیت یوم الدین یعنی اقتدار جزا و سزا کا ذکر کر کے اور اپنی عام قدرت کا ا اظہار فرما کر پھر اس کے بعد کی آیتوں میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ خدایا ایسا کر کہ گزشتہ راستباز نبیوں رسولوں کے ہم وارث ٹھہرائے جائیں ان کی راہ ہم پر کھولی جائے اُن کی نعمتیں ہم کو دی جائیں خدا یا ہمیں اس