تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 374
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۴ سورة الفاتحة سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں (۱) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اُس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة: ۴)۔غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم علیہم کی جماعتیں ہیں اور انہیں کی طرف اشارہ ہے آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دو ہی ہیں۔ایک صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت۔دوسری وَ اخَرِينَ مِنْهُمُ کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دُعا پڑھو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا ہے (۲) دوسری دُعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دُ کھ دیں گے اور اس دُعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورة تبت یدا ابی لھب ہے (۳) تیسری دُعا وَلَا الضَّالِّينَ ہے اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورہ اخلاص ہے یعنی قُلْ هُوَ اللهُ أَحَده اللهُ الصَّمَدُه لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُه وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص : ۲ تا ۵) اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ محبت اور سورۃ اخلاص کے لئے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جبکہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔پس سورہ فاتحہ میں اُن تینوں دعاؤں کی تعلیم بطور براعت الاستبلال ہے یعنی وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورہ ثبت اور سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دُعاؤں سے ہوا اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔اور یادر ہے کہ ان دونوں فتنوں کا قرآن شریف میں مفصل بیان ہے اور سورہ فاتحہ اور آخری سورتوں میں اجمالاً ذکر ہے۔مثلاً سورہ فاتحہ میں دُعاؤ لا الضالین میں صرف دو لفظ میں سمجھایا گیا ہے کہ عیسائیت کے فتنہ سے بچنے کے لئے دُعا مانگتے رہو جس سے سمجھا جاتا ہے کہ کوئی فتنہ عظیم الشان در پیش ہے جس کے لئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ نماز کے پنچ وقت میں یہ دُعا شامل کر دی گئی اور یہاں تک تاکید کی گئی کہ اس کے بغیر نماز