تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 369
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۹ سورة الفاتحة بتا دیں تو سہی کہ اس قوم کی جس کا فتنہ دجال سے بھی زیادہ ہے خبر کہاں دی گئی ہے۔قرآن شریف نے تو اسی واسطے دجال کا نام نہیں لیا بلکہ وَلَا الضَّالین کہا۔جس سے مراد یہی قوم نصاری ہے وَلَا الدجال کیوں نہ کہا۔اصل امر یہی ہے کہ یہی وہ قوم ہے جس سے تمام انبیاء اپنی اپنی امت کو ڈراتے آئے ہیں۔وَلَا الدَّجَال الحکم جلدے نمبر ۱۳ مؤرخه ۱/۱۰ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳) وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں۔اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے اس لئے سورہ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاریٰ کے شر سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔اگر دقبال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالی یہ فرما تاؤ لَا الضَّالِّينَ۔یہ فرمانا چاہئے تھا کہ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۱) اس شیطان کا نام دوسرے لفظوں میں عیسائیت کا بھوت ہے۔یہ بھوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائی گرجا میں قید تھا اور صرف جساسہ کے ذریعہ سے اسلامی اخبار معلوم کرتا تھا۔پھر قرونِ ثلاثہ کے بعد بموجب خبر انبیاء علیہم السلام کے اس بھوت نے رہائی پائی اور ہر روز اس کی طاقت بڑھتی گئی یہاں تک کہ تیرھویں صدی ہجری میں بڑے زور سے اُس نے خروج کیا اسی بھوت کا نام دجال ہے جس نے سمجھنا ہو سمجھ لے اور اسی بھوت سے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے اخیر میں وَلَا الضَّالِّينَ کی دُعا میں ڈرایا ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۵ حاشیه ) وہ دجال کہاں ہے؟ جس سے تم ڈراتے ہومگر لا الضالين والا دجبال دن بدن دنیا میں ترقی کر رہا ہے اور قریب ہے کہ آسمان وزمین اس کے فتنہ سے پھٹ جائیں۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۹) خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ دجال جس سے ڈرایا گیا ہے وہ آخری زمانہ کے گمراہ پادری ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کا طریق چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ اس نے سورہ محدوحہ میں یہی دعا سکھلائی ہے کہ ہم خدا سے چاہتے ہیں کہ ایسے یہودی نہ بن جائیں جن پر حضرت عیسیٰ کی نافرمانی اور عداوت سے غضب نازل ہوا تھا اور نہ ایسے عیسائی بن جائیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ کی تعلیم کو چھوڑ کر اس کو خدا بنا دیا تھا اور ایک ایسا جھوٹ اختیار کیا جو تمام جھوٹوں سے بڑھ کر ہے اور اس کی تائید میں حد سے زیادہ فریب اور مکر استعمال میں لائے۔اس لئے آسمان پر ان کا نام دجال رکھا گیا اگر کوئی اور دقبال ہوتا تو اس آیت میں اس دجال