تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 368
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۸ سورة الفاتحة وَأَتَمَّ نَعْمَاتُهُ وَوَعَدَ أَنَّهُ بَاعِثُ مِّن نے اپنی بخششوں کو مکمل کیا تھا اور اپنی نعمتوں کو انتہاء تک هذِهِ الْأُمَّةِ مَنْ هُوَ يُشَابِهُ النَّبِيِّينَ پہنچایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ اس اُمت میں سے ایک شخص وَيُضَافِي الْمُرْسَلِينَ۔ثُمَّ ذَكَرَ قَوْمًا اخر کو پیدا کرے گا جو نبیوں کے مشابہ اور رسولوں کی مانند أَخَرَ تركوا في الظُّلُمَاتِ۔وَ جَعَل فِتْتَعَهُمْ ہوگا۔پھر اس نے ایک اور گروہ کا ذکر کیا جو تاریکیوں میں اخِرَ الْفِتَنِ وَأَعْظَمَ الْآفَاتِ۔وَأَمَرَ أَنْ چھوڑ دیئے گئے ہیں اور اُن کے فتنہ کو آخری فتنہ اور سب يَعُوذَ النَّاسُ كُلُّهُمْ بِهِ مِن هَذِهِ الْفِتَنِ سے بڑی آفت قرار دیا۔اور اُس نے حکم فرمایا کہ قیامت إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔وَيَتَضَرَّعُوا لِدَفْعِهَا کے دن تک تمام لوگ ان فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگا کریں فِي الصَّلَوَاتِ فِي أَوْقَاتِهَا الْخَمْسَةِ وَمَا اور اُن کے دُور ہونے کے لئے پانچوں وقت نمازوں أَشَارَ فِي هَذَا إِلَى الرّجالِ وَفِتْنَتِهِ میں آہ وزاری کیا کریں۔لیکن اُس نے اس سورۃ میں دقبال الْعَظِيمَةِ فَأَن دَلِيْلٍ أَكْبَرُ مِنْ هَذَا عَلى اور اُس کے فتنہ عظیمہ کی طرف تو کوئی اشارہ نہ فرمایا۔پس إِبْطَالِ هَذِهِ الْعَقِيدَةِ ثُمَّ مِنْ مُؤَيَّدَاتِ اِس عقیدہ کے باطل ہونے پر اس سے بڑی دلیل اور کونسی ہو هذَا الْبُرْهَانِ۔أَنَّ الله ذكر النصارى في سکتی ہے۔نیز اس دلیل کی تائیدی امور میں سے ایک یہ بات ذَكَرَ اخِرِ الْقُرْآنِ كَمَا ذَكَرَ فِي أَوَّلِ الْفُرْقَانِ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے آخر میں بھی ویسے فَفَكَّرْ فِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَفِي الْوَسواس ہی نصاری کا ذکر کیا ہے جیسے اس نے شروع میں ان کا ذکر الْخَنَّاسِ وَمَا هُمْ إِلَّا النَّصَارَى فَعُد فرمایا۔پس لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ اور الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ مِنْ عُلَمَائِهِمْ بِرَبِّ النَّاسِ وَإِنَّ اللهَ میں غور کرو۔یہ لوگ نصاری کے سوا اور کوئی نہیں۔پس ان كَمَا خَتَمَ الْفَاتِحَة عَلَى الضَّالِّينَ کے پادریوں سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگو۔اللہ تعالیٰ نے جیسے كَذَالِكَ خَتَمَ الْقُرْآنَ عَلَى النَّفْرَانِينَ سورت فاتحہ کو الضالین (کے ذکر ) پر ختم کیا ہے اسی طرح وَإِنَّ الظَّالِينَ هُمُ النَّفَرَانِيُّونَ كَمَا اُس نے قرآن کریم کو نصاری (کے ذکر) پر ختم کیا ہے اور روى عَن نَّبِيِّنَا فِي اللَّهِ الْمَنْعُورِ وَفي الضَّالّين نصاری ہی ہیں جیسا کہ ڈر منشور اور فتح الباری میں فَتح الْبَارِى فَلَا تُعْرِضْ عَنِ الْقَوْلِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔پس تم ایسی پختہ الثَّابِتِ الْمَشْهُورِ۔وَمُسَلَّمِ الْجَمْهُورِ بات سے جو زبان زدِ خلائق ہے اور جو جمہور (مسلمانوں ) اعجاز مسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۹۰ تا۱۹۵) کے نزدیک مسلّم ہے منہ نہ موڑو۔( ترجمہ از مرتب )