تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 367
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۷ سورة الفاتحة تُفَكَّرُونَ فِي هَذَا وَ تَرُونَ غَافِلِينَ ثُمَّ | نمونہ پر آیا ہو۔ تمہیں کیا ( ہو گیا) ہے کہ تم اس بات پر غور اعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ قَدْ أَخْبَرَتْ عَنِ نہیں کرتے اور غافل گزر جاتے ہو ۔ مزید برآں جان لو الْمَبْدَاءِ وَالْمَعَادِ وَأَشَارَتْ إِلى قَوْمٍ هُمْ کہ اس سورۃ نے مبداء اور معاد ( ہر دو ) کی خبر دی ہے اور اخِرُ الْأَقْوَامِ وَمُنْتَهَى الْفَسَادِ فَإِنَّهَا اُس قوم کی طرف اشارہ کیا ہے جو قوموں میں سے آخری اخْتُتِمَتْ عَلَى الضَّالِّينَ وَفِيهِ إِشَارَةٌ قوم ہے اور بداعمالی کے لحاظ سے بھی انتہائی (مقام) پر لِلْمُتَدَبِرِينَ فَإِنَّ اللهَ ذَكَرَ هَاتَيْنِ ہے کیونکہ یہ سورۃ لفظ الضالین پرختم ہوئی اور اس میں الْفِرْقَتَيْنِ فِي آخِرِ السُّورَةِ وَمَا ذَكَرَ تدبر کرنے والوں کے لئے اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے الدَّجَّالَ الْمَعْهُودَ تَصْرِيحًا وَلَا بِالْإِشَارَةِ ان دونوں گروہوں کا سورۃ کے آخر میں ذکر کیا ہے۔لیکن مَعَ أَنَّ الْمَقَامَ كَانَ يَقْتَضِي ذِكْرَ دجال معہود کا نہ تصریحاً ذکر کیا ہے نہ اشارہ ۔ حالانکہ یہ الدَّجَّالِ فَإِنَّ السُّورَةَ أَشَارَتْ فِي قَوْلِهَا مقام دجال کے ذکر کا مقتضی تھا ۔ کیونکہ سورۃ فاتحہ نے الضَّالِّينَ إلى آخِرِ الْفِتَنِ وَأَكْبَرِ الضَّالِّين کے لفظ سے آخری زمانہ کے فتنہ اور انتہائی خطرہ الْأَهْوَالِ فَلَوْ كَانَتْ فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فِي کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں دجال کا عِلْمِ اللهِ أَكْبَرَ مِنْ هَذِهِ الْفِتْنَةِ لَخَتَمَ فتنہ الضَّالِّين کے فتنہ سے بڑا تھا تو وہ اس سورۃ کو دجال السُّورَةَ عَلَيْهَا لَا عَلَى هَذِهِ الْفِرْقَةِ کے فتنہ کے ذکر پر ختم کرتا نہ کہ اس فرقہ ضالہ پر ۔ پس تم فَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِكُمْ أَنَسِيَ أَصْلَ الْأَمْرِ اپنے دلوں میں غور کرو کیا ہمارا ذی شان پروردگار اصل رَبُّنَا ذُو الْجَلَالِ وَذَكَرَ الضَّالِّينَ فِي مَقَامِ بات کو بھول گیا اور اس نے ایسی جگہ الضالین کا ذکر کر كَانَ وَاجِبًا فِيهِ ذِكْرُ الدَّجَّالِ وَإِنْ كَانَ دیا جہاں دجال معہود کا ذکر کرنا ضروری تھا۔ اگر معاملہ الْأَمْرُ كَمَا هُوَ زَعْمُ الْجُهَّالِ لَقَالَ اللهُ فِي نا واقفوں کے خیال کے مطابق ایسا ہی ہوتا تو خدا تعالیٰ هُذَا الْمَقَامِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا اس جگہ غیر المغضوب عليهم ولا الدجال فرماتا الدَّجَّالِ وَ أَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ أَرَادَ في حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس سورۃ سے اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا هُذِهِ السُّورَةِ أَنْ تَحْتَ الْأُمَّةَ عَلَى طُرُقِ کہ اُمّتِ مسلمہ کو انبیاء کے راستوں پر چلنے کی ترغیب النَّبِيِّينَ وَيُحَذِّرَهُمْ مِنْ طُرُقِ الْكَفَرَةِ دے اور اُن کو بد کردار کافروں کے راستوں سے ڈرائے الْفَجَرَةِ فَذَكَرَ قَوْمًا أَكْمَلَ لَهُمْ عَطَاتُهُ تبھی تو اُس نے پہلے ایک ایسی قوم کا ذکر کیا جس پر اس