تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 16
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶ سورة الفاتحة کاملہ پر ہی یہ چوتھا تصور کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی بے مثل و مانند ہوں کہ کسی حکیم یا فیلسوف کا پتہ نہ مل سکتا ہو کہ ان صداقتوں کو اپنی نظر اور فکر سے دریافت کرنے والا ہو چکا ہو۔پھر ساتھ ہی یہ پانچواں تصور کرنے سے کہ جس زمانہ میں وہ صداقتیں ظاہر ہوئی ہوں ایک تازہ نعمت کی طرح ظاہر ہوئی ہوں اور اس زمانہ کے لوگ ان کے ظہور سے پہلے اس راہ راست سے بکی بے خبر ہوں۔پھر ساتھ ہی یہ چھٹا تصور کرنے سے کہ اُس کلام میں ایک آسمانی برکت بھی ثابت ہو کہ جو اس کی متابعت سے طالب حق کو خداوند کریم کے ساتھ ایک سچا پیوند اور ایک حقیقی اُنس پیدا ہو جائے اور وہ انوار اس میں چمکنے لگیں کہ جو مردان خدا میں چمکنے چاہئیں۔یہ کل مجموعی ایک ایسی حالت میں معلوم ہوتا ہے کہ عقل سلیم بلا توقف و تر و د حکم دیتی ہے کہ بشری کلام کا ان تمام مراتب پر مشتمل ہونا ممتنع اور محال اور خارقِ عادت ہے اور بلاشبہ ان تمام فضائل ظاہری و باطنی کو بہ نظر یکجائی دیکھنے سے ایک رُعب ناک حالت ان میں پائی جاتی ہے کہ جو عقلمند کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اس کل مجموعی کا انسانی طاقتوں سے انجام پذیر ہونا عقل اور قیاس سے باہر ہے اور ایسی رعب ناک حالت گلاب کے پھول میں ہرگز پائی نہیں جاتی کیونکہ قرآن شریف میں یہ خصوصیت زیادہ ہے کہ اس کی صفات مذکورہ کہ جو بے نظیری کا مدار ہیں نہایت بدیہی الثبوت ہیں اور اسی وجہ سے جب معارض کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ایک حرف بھی ایسے موقعہ پر نہیں رکھا گیا کہ جو حکمت اور مصلحت سے دور ہو اور اُس کا ایک فقرہ بھی ایسا نہیں کہ جو زمانہ کی اصلاح کے لئے اشد ضروری نہ ہو۔اور پھر بلاغت کا یہ کمال کہ ہر گز ممکن ہی نہیں کہ اس کی ایک سطر کی عبارت تبدیل کر کے بجائے اس کے کوئی دوسری عبارت لکھ سکیں۔تو ان بدیہی کمالات کے مشاہدہ کرنے سے معارض کے دل پر ایک بزرگ رعب پڑ جاتا ہے۔( براہین احمدیہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۰۳ تا ۴۰۹ حاشیہ نمبر ۱۱) سورۃ فاتحہ کی عظیم صفات کا ثبوت کوئی نادان۔۔۔۔۔شاید باعث نادانی سوال کرے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ یہ ساری خوبیاں سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف میں متحقق اور ثابت ہیں۔سو واضح ہو کہ اس بات کا یہی ثبوت ہے کہ جنہوں نے قرآن شریف کے بے مثل کمالات پر غور کی اور اس کی عبارت کو ایسے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر پایا کہ اس کی نظیر بنانے سے عاجز رہ گئے اور پھر اس کے دقائق و حقائق کو ایسے مرتبہ عالیہ پر دیکھا کہ تمام زمانہ میں اس کی نظیر نظر نہ آئی اور اس میں وہ تاثیرات عجیبہ مشاہدہ کیں کہ جو انسانی کلمات میں ہر گز نہیں ہوا کرتیں