تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 365

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۵ سورة الفاتحة وَمَا رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ ، وَمَا كَانَ رَفْعُهُ أَمْرًا اور نہ انہیں آسمان کی طرف اُٹھایا گیا تھا اور آپ کا رفع جَدِيدًا فَخَصُوصًا بِهِ بَلْ كَانَ رَفْعَ الرُّوحِ کوئی انوکھی بات نہیں تھی جو آپ کے ساتھ ہی مخصوص ہو فَقَدْ كَمِثْلِ رَفْعِ إِخْوَانِهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بلکہ وہ تو آپ کے بھائیوں یعنی دوسرے نبیوں کی طرح الهدی ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۲) صرف روح کا رفع تھا۔ ( ترجمه از مرتب ) - ( قرآن ) سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ عیسائیت کے فتنہ سے خدا کی پناہ مانگیں جیسا کہ ولا الضالین کے معنی تمام مفسرین نے یہی کئے ہیں ۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۹۷) سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کا نام الضالین رکھا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر چہ دنیا کے صد ہا فرقوں میں ضلالت موجود ہے مگر عیسائیوں کی ضلالت کمال تک پہنچ جائے گی گو یا دنیا میں فرقہ ضالہ تتمه حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۰) وہی ہے۔ اعْلَمْ أَسْعَدَكَ اللهُ أَنَّ اللهَ قَسَمَ الْيَهُودَ جان لو! اللہ تعالیٰ آپ کو سعادت بخشے کہ اللہ تعالیٰ نے وَالنَّصَارَى فِي هَذِهِ السُّورَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ اِس سورۃ میں یہود اور نصاری کو تین اقسام پر منقسم کیا ہے أَقْسَامٍ فَرَغَبَنَا فِي قِسْمٍ مِنْهُمْ وَبَشِّرَ بِهِ اور ہمیں ان میں سے ایک قسم میں شمولیت کی رغبت دلائی بِفَضْلٍ وَإِكْرَامٍ وَعَلَّمَنَا دُعَاء لِتَكُونَ ہے اور اپنے فضل اور کرم سے اس (کے حصول ) کی كَمِثْلِ تِلْكَ الْكِرَامِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بشارت بھی دی ہے۔ نیز ہمیں ایک دعا سکھائی ہے تا ہم بھی وَالرُّسُلِ الْعِظَامِ وَبَقِيَ الْقِسْمَانِ اُن بزرگ نبیوں اور بڑے بڑے رسولوں کی طرح بن الْأَخَرَانِ وَهُمَا الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ مِنَ جائیں اور باقی جو دوسری دو اقسام رہ گئیں مغضوب الْيَهُودِ وَ الضَّالُونَ مِنْ أَهْلِ الصُّلْبَانِ عليهم یعنی یہودی اور الضالین یعنی اہل صلیب ہیں۔ فَأَمَرَنَا أَنْ نَّعُوْذَ بِهِ مِنْ أَنْ تَلْحَقَ بِهم پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ ہم اس بات مِنَ الشَّقَاوَةِ وَ الطَّغْيَانِ فَظَهَرَ مِنْ هَذِهِ سے اُس کی پناہ مانگیں کہ ہم بدبختی اور سرکشی میں کہیں اُن السُّورَةِ أَنَّ أَمْرَنَا قَدْ تُرِكَ بَيْنَ خَوْفٍ کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں پس اس سورۃ سے ظاہر ہوا وَرَجَاءٍ ، وَنَعْمَةٍ وَ بَلَاء - إِمَّا مُشَابَهَةٌ کہ ہمارا معاملہ خوف اور امید اور آسودگی اور آزمائش بِالْأَنْبِيَاءِ وَ إِمَّا شُرْبٌ مِنْ كَأْس کے درمیان چھوڑ دیا گیا ہے یعنی یا تو نبیوں کی مانند بن الْأَشْقِيَاءِ فَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي عَظَمَ | جائیں اور یا بدبختوں کے پیالہ سے پئیں ۔ پس تم خدا