تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 363

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۳ سورة الفاتحة شہادت اور تمام اکابر اسلام کی شہادت سے ضالین سے مراد عیسائی ہیں اور ضالین سے پناہ مانگنے کی دُعا بھی ایک پیشگوئی کے رنگ میں ہے کیونکہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائیوں کا کچھ بھی زور نہ تھا بلکہ فارسیوں کی سلطنت بڑی قوت اور شوکت میں تھی۔اور مذاہب میں سے تعداد کے لحاظ سے بدھ مذہب دنیا میں تمام مذاہب سے زیادہ بڑھا ہوا تھا اور مجوسیوں کا مذہب بھی بہت زور وجوش میں تھا اور ہندو بھی علاوہ قومی اتفاق کے بڑی شوکت اور سلطنت اور جمعیت رکھتے تھے اور چینی بھی اپنی تمام طاقتوں میں بھرے ہوئے تھے تو پھر اس جگہ طبعاً یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ تمام قدیم مذاہب جن کی بہت پرانی اور زبردست سلطنتیں تھیں اور جن کی حالتیں قومی اتفاق اور دولت اور طاقت اور قدامت اور دوسرے اسباب کی رو سے بہت ترقی پر تھیں اُن کے شر سے بچنے کے لئے کیوں دُعا نہیں سکھلائی ؟ اور عیسائی قوم جو اُس وقت نسبتی طور پر ایک کمزور قوم تھی کیوں اُن کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی؟ اس سوال کا یہی جواب ہے جو بخوبی یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ یہ قوم روز بروز ترقی کرتی جائے گی یہاں تک کہ تمام دنیا میں پھیل جائے گی اور اپنے مذہب میں داخل کرنے کے لئے ہر ایک تدبیر سے زور لگائیں گے اور کیا علمی سلسلہ کے رنگ میں اور کیا مالی ترغیبوں سے اور کیا اخلاق اور شیرینی کلام دکھلانے سے اور اور کیا دولت اور شوکت کی چمک سے اور کیا نفسانی شہوات اور اباحت اور بے قیدی کے ذرائع سے اور کیا نکتہ چینیوں اور اعتراضات کے ذریعہ سے اور کیا بیماروں اور ناداروں اور در ماندوں اور یتیموں کا متکفل بننے سے ناخنوں تک یہ کوشش کریں گے کہ کسی بدقسمت نادان یا لالچی یا شہوت پرست یا جاه طلب یا بیکس یا کسی بچہ بے پدرو مادر کو اپنے قبضہ میں لا کر اپنے مذہب میں داخل کریں سو اسلام کے لئے یہ ایک ایسا فتنہ تھا کہ کبھی اسلام کی آنکھ نے اس کی نظیر نہیں دیکھی اور اسلام کے لئے یہ ایک عظیم الشان ابتلا تھا جس سے لاکھوں ی ( بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سورہ فاتحہ میں المغضوب علیہم سے مراد یہود اور الضالین سے مراد نصاری ہیں۔دیکھو کتاب در منثور صفحہ نمبر ۹ اور عبدالرزاق اور احمد نے اپنی مسند میں اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور بغوی نے معجم الصحابہ میں اور ابن منذرا اور ابوالشیخ نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ہے۔قال أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِى الْقُرَى عَلَى فَرَسٍ لَّهُ وَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَيْنِ فَقَالَ مَنِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ الْيَهُودُ قَالَ فَمَنِ الضَّالُونَ۔قَالَ النَّصَاری۔یعنی کہا کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا جبکہ آپ وادی قریٰ میں گھوڑے پر سوار تھے کہ بنی عین میں سے ایک شخص نے آنحضرت سے سوال کیا کہ سورہ فاتحہ میں مغضوب علیہم سے کون مراد ہے فرمایا کہ یہود۔پھر سوال کیا کہ ضالین سے کون مراد ہے فرمایا کہ نصاری۔دُر منثور صفحہ نمبر ۱۷۔منہ