تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 350

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام شرح ہیں۔۔۔۔۔۔۳۵۰ سورة الفاتحة آخر سورۃ میں شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم فرمائی ہے جیسے سورۃ فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا تھا ویسے ہی آخری سورۃ میں خنّاس کے ذکر پر ختم کیا تا کہ خناس اور الضالین کا تعلق معلوم ہو۔۔۔۔۔۔کس طرح پر ایک دائرہ کی طرح خدا نے اس سلسلہ کو رکھا ہوا ہے ولا الضالین پر سورۃ فاتحہ کو جو قرآن کا آغاز ہے ختم کیا اور پھر قرآن شریف کے آخر میں وہ سورتیں رکھیں جن کا تعلق سورۃ فاتحہ کے انجام سے ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مؤرخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ء صفحه ۵،۴) اگر کوئی ہم سے سیکھے تو سارا قرآن ہمارے ذکر سے بھرا ہوا ہے ابتدا ہی میں ہے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ اب ان سے کوئی پوچھے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ کونسا فرقہ تھا تمام فرقے اسلام کے اس بات پر متفق ہیں کہ وہ یہودی تھے اور ادھر حدیث شریف میں ہے کہ میری اُمت یہودی ہو جاوے گی تو پھر بتلاؤ کہ اگر مسیح نہ ہوگا تو وہ یہودی کیسے بنیں گے۔(البدرجلد نمبر ۹ مورخه ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶۸) سورہ فاتحہ میں صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہ کر مسیح موعود کی پیشگوئی فرمائی۔اور پھر اس سورہ میں مغضوب اور ضالین دو گروہوں کا ذکر کر کے یہ بھی بتا دیا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس وقت ایک قوم مخالفت کرنے والی ہوگی جو مغضوب قوم یہودیوں کے نقش قدم پر چلے گی اور ضالین میں یہ اشارہ کیا کہ قتل دجال اور کسر صلیب کے لئے آئے گا۔کیونکہ مغضوب سے یہود اور ضالین سے نصاری بالاتفاق مراد ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۶ مؤرخہ ۳۰/اپریل ۱۹۰۳ء صفحه ۲) مجھے مسلمانوں کی حالت پر افسوس آتا ہے کہ ان کے سامنے یہودیوں کی ایک نظیر پہلے سے موجود ہے اور پانچ وقت یہ اپنی نمازوں میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا کرتے ہیں اور یہ بھی بالاتفاق مانتے ہیں کہ اس سے مراد یہود ہیں۔پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس راہ کو یہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ مؤرخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۸) جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یہود کی حالت تھی وہی حالت مسلمانوں کی موعود مسیح محمدی کے زمانہ ہو جائے گی۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین میں اسی کی طرف تو اشارہ ہے۔خود مسلمانوں سے پوچھ لو کہ آخری زمانہ کے مسلمانوں اور علماء کا کیا حال لکھا ہے۔یہی لکھا ہے کہ ایسے ہو الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مؤرخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۲) جاویں گے۔