تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 342
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ سورة الفاتحة یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ سورۃ فاتحہ میں جو آیا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ وہ اسی معرکہ کی طرف اشارہ ہے یعنی یہود نے خدا کے پاک اور مقدس نبی کو عمر محض شرارت سے لعنتی ٹھہرا کر خدا تعالیٰ کا غضب اپنے پر نازل کیا اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ٹھہرے حالانکہ اُن کو پتہ بھی لگ گیا تھا کہ حضرت مسیح قبر میں نہیں رہے اور وہ پیشگوئی اُن کی پوری ہوئی کہ یونس کی طرح میرا حال ہو گا یعنی زندہ ہی قبر میں جاؤں گا اور زندہ ہی نکلوں گا۔ اور نصاری گو حضرت مسیح سے محبت کرتے تھے مگر محض اپنی جہالت سے انہوں نے بھی لعنت کا داغ حضرت مسیح کے دل کی نسبت قبول کر لیا اور یہ نہ سمجھا کہ لعنت کا مفہوم دل کی ناپاکی سے تعلق رکھتا ہے اور نبی کا دل کسی حالت میں نا پاک اور خدا کا دشمن اور اس سے بیزار نہیں ہو سکتا ۔ یا نا ۔ پس اس سورۃ میں بطور اشارت مسلمانوں کو یہ سکھلایا گیا ہے کہ یہود کی طرح آنے والے مسیح موعود کی تکذیب میں جلدی نہ کریں اور حیلہ بازی کے فتوے طیار نہ کریں اور اس کا نام لعنتی نہ رکھیں ۔ ورنہ وہی لعنت اُلٹ کر اُن پر پڑے گی ۔ ایسا ہی عیسائیوں کی طرح نادان دوست نہ بنیں اور ناجائز صفات اپنے پیشوا کی طرف منسوب نہ کریں پس بلا شبہ اس سورۃ میں مخفی طور پر میرا ذکر ہے اور ایک لطیف پیرایہ میں میری نسبت یہ ایک پیشگوئی ہے اور دُعا کے رنگ میں مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ایسا زمانہ تم پر بھی آئے گا اور تم بھی حیلہ جوئی سے مسیح موعود کو لعنتی ٹھہراؤ گے کیونکہ یہ بھی حدیث ہے کہ اگر یہودی سوسمار کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو مسلمان بھی داخل ہوں گے۔ یہ عجیب خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ قرآن شریف کی پہلی سورۃ میں ہی جس کو پنج وقت مسلمان پڑھتے ہیں میرے آنے کی نسبت پیشگوئی کر دی ۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۱۱۰، ااا حاشیہ ) چونکہ یہ امت مرحومہ ہے اور خدا نہیں چاہتا کہ ہلاک ہوں۔ اس لئے اُس نے یہ دُعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کی سکھلا دی اور اس کو قرآن میں نازل کیا اور قرآن اسی سے شروع ہوا اور یہ دُعا مسلمانوں کی نمازوں میں داخل کر دی تا وہ کسی وقت سوچیں اور سمجھیں کہ کیوں ان کو یہود کی اس سیرت سے ڈرایا گیا جس سیرت کو یہود نے نہایت بڑے طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ظاہر کیا تھا۔ یہ بات صاف طور پر سمجھ آتی ہے کہ اس دُعا میں جو سورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے فرقہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مسلمانوں کا بظاہر کچھ بھی تعلق نہ تھا کیونکہ جبکہ قرآن شریف اور احادیث اور اتفاق علماء اسلام سے ثابت ہو گیا کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے یہود مراد ہیں اور یہود بھی وہ جنہوں نے حضرت مسیح کو بہت ستایا اور دُکھ دیا تھا اور ان کا نام کا فراور کا نام کافر اور لعنتی رکھا تھا