تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 12
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة الفاتحة اور اتمام حجت اور الزام منکرین میں ایک ذرا فروگذاشت نہ کرتی ہو اور مناظرہ اور مباحثہ کے تمام پہلوؤں کی کماحقہ رعایت رکھتی ہو اور تمام ضروری دلائل اور ضروری براہین اور ضروری تعلیم اور ضروری سوال اور ضروری جواب پر مشتمل ہو کیونکر با وجود ان مشکلات پیچ در پیچ کے کہ جو پہلی صورت سے صد با درجہ زیادہ ہیں ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ کسی بشر کی تحریر میں جمع ہو سکتی ہے کہ وہ بلاغت بھی بے مثل و مانند ہو اور اُس مضمون کو اُس سے زیادہ فصیح عبارت میں بیان کرنا ممکن نہ ہو۔سورۃ فاتحہ کی ایک بزرگ خاصیت یہ تو وہ وجوہ ہیں کہ جو سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایسے طور سے پائی جاتی ہیں جن کو گلاب کے پھول کی وجوہ بے نظیری سے بکلی مطابقت ہے۔لیکن سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایک اور خاصہ بزرگ پایا جاتا ہے کہ جو اسی کلام پاک سے خاص ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو تو جہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلماتی پردوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منتشرح کرتا ہے اور طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربان حضرت احدیت میں ہونی چاہئے اور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا۔اور اس روحانی تاثیر کا ثبوت بھی ہم اس کتاب میں دے چکے ہیں اور اگر کوئی طالب حق ہو تو با لمواجہ ہم اس کی تسلی کر سکتے ہیں اور ہر وقت تازہ بتازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں۔سورۃ فاتحہ کی خوبیوں کا کوئی انسان مقابلہ نہیں کر سکا اور نیز اس بات کو بخوبی یا درکھنا چاہئے کہ قرآن شریف کا اپنی کلام میں بے مثل و مانند ہونا صرف عقلی دلائل میں محصور نہیں بلکہ زمانہ دراز کا تجربہ صحیحہ بھی اس کا مؤید اور مصدق ہے۔کیونکہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف برابر تیرہ سو برس سے اپنی تمام خوبیاں پیش کر کے هَلْ مِنْ مُعَارِض کا نقارہ بجارہا ہے اور تمام دنیا کو بآواز بلند کہ رہا ہے کہ وہ اپنی ظاہری صورت اور باطنی خواص میں بے مثل و مانند ہے اور کسی جن یا انس کو اس کے مقابلہ یا معارضہ کی طاقت نہیں۔مگر پھر بھی کسی متنفس نے اس کے مقابلہ پر دم نہیں مارا بلکہ اس کی کم سے کم کسی سورۃ مثلاً سورۃ فاتحہ کی ظاہری و باطنی خوبیوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکا تو دیکھو اس سے زیادہ بدیہی اور کھلا گھلا معجزہ اور کیا ہو گا کہ عقلی طور پر بھی اس پاک کلام کا بشری طاقتوں سے بلند تر ہونا ثابت ہوتا