تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 11
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 11 سورة الفاتحة تقریر اختیار کرے جس سے اس بحث کو اپنے مفید مطلب طے کر سکے ۔ یا مثلاً ایک حاکم جس کا یہ کام ہے کہ فریقین اور گواہوں کے بیان کو ٹھیک ٹھیک قلم بند کرے اور ہر یک بیان پر جو جو واقعی اور ضروری طور پر جرح قدح کرنا چاہیئے وہی کرے اور جیسا کہ تنقیح مقدمہ کے لئے شرط ہے اور تفتیش امر متنازعہ فیہ کے لئے قرین مصلحت ہے سوال کے موقعہ پر سوال اور جواب کے موقعہ پر جواب لکھے اور جہاں قانونی وجوہ کا بیان کرنا لازم ہو ۔ ان کو درست طور پر حسب منشاء قانون بیان کرے اور جہاں واقعات کا بہ ترتیب تمام کھولنا واجب ہو۔ ان کو بہ پابندی ترتیب و صحت کھول دے اور پھر جو کچھ فی الواقعہ اپنی رائے اور بتائید اس رائے کے وجوہات ہیں ان کو بہ صحت تمام بیان کرے اور باوصف ان تمام التزامات کے فصاحت بلاغت کے اس اعلیٰ درجہ پر اس کا کلام ہو کہ اس سے بہتر کسی بشر کے لئے ممکن نہ ہو تو اس قسم کی بلاغت کو بانجام پہنچانا بہ بداہت ان کے لئے محال ہے۔ سوانسانی فصاحتوں کا یہی حال ہے کہ بجز فضول اور غیر ضروری اور واہیات باتوں کے قدم ہی نہیں اٹھ سکتا۔ اور بغیر جھوٹ اور ہنرل کے اختیار کرنے کے کچھ بول ہی نہیں سکتے ۔ اور اگر کچھ بولے بھی تو ادھورا۔ ناک ہے تو کان نہیں۔ کان ہیں تو آنکھ ندارد۔ سچ بولے تو فصاحت گئی۔ فصاحت کے پیچھے پڑے تو جھوٹ اور فضول گوئی کے انبار کے انبار جمع کر لئے ۔ پیاز کی طرح سب پوست ہی پوست اور بیچ میں کچھ بھی نہیں ۔ پس جس صورت میں عقلِ سلیم صریح حکم دیتی ہے کہ نا کارہ اور خفیف معاملات اور سیدھے سادھے واقعات کو ات کو بھی ضرورت حقہ اور راستی کے التزام سے رنگین اور بلیغ عبارت میں ادا کرنا ممکن نہیں تو پھر اس بات کا سمجھنا کس قدر آسان ہے کہ معارف عالیہ کو ضرورت حقہ کے التزام کے ساتھ نہایت رنگین اور فصیح عبارت میں جس سے اعلیٰ اور اصلی متصور نہ ہو بیان کرنا بالکل خارقِ عادت اور بشری طاقتوں سے بعید ہے اور جیسا کہ گلاب کے پھول کی طرح کوئی پھول کہ جو ظاہر و باطن میں اس سے مشابہ ہو بنانا عادتاً محال ہے۔ ایسا ہی یہ بھی محال ہے کیونکہ جب ادنی ادنیٰ امور میں تجربہ صحیحہ شہادت دیتا ہے اور فطرت سلیمہ قبول کرتی ہے کہ انسان اپنی کسی ضروری اور راست راست بات کو خواہ وہ بات کسی معاملہ خرید وفروخت سے متعلق ہو یا تحقیقات عدالت وغیرہ سے تعلق رکھتی ہو۔ جب اس کو اصلح اور انسب طور پر بجالانا چاہے تو یہ بات غیر ممکن ہو جاتی ہے کہ اس کی عبارت خواہ مخواہ ہر محل میں موزوں اور متقی اور فصیح اور بلیغ بلکہ اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر ہو تو پھر ایسی تقریر کہ جو علاوہ التزام راستی اور صدق کے معارف اور حقائق عالیہ سے بھی بھری ہوئی اور ضرورت حقہ کے رو سے صادر ہو اور تمام حقانی صداقتوں پر محیط ہو اور اپنے منصب اصلاح حالت موجودہ