تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 308
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۸ سورة الفاتحة بھی رہیں گے۔ہاں مللِ باطلہ دلیل کے رو سے ہلاک ہو جائیں گی۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۰ حاشیه در حاشیه ) قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں یہی تاکید روحانی تمدن کے لئے بھی ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالی یہ دعا سکھلاتا ہے : اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مومن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی خدا تعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے۔لہذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتم طور پر نعمت روحانی کی بارش ہوئی ہے ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تاہم ان کی پیروی کریں۔سو اس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ تم امام الزمان کے ساتھ ہو جاؤ۔یا در ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی ، رسول ، محدث، مجد دسب داخل ہیں۔مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے لئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات ان کو دیئے گئے۔وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔( ضرورة الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۵،۴۹۴) بعض کہتے ہیں کہ انبیاء اس دُعا کو کیوں مانگتے ہیں؟ ان کو معلوم نہیں وہ ترقیات کے لئے مانگتے تھے۔چونکہ اللہ تعالیٰ غیر محدود ہے اس کے فیضان وفضل بھی غیر منقطع ہیں اس لئے وہ ان غیر محدود فضلوں کے حاصل کرنے کے لئے اس دُعا کو مانگتے تھے۔الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۲) قرآن کریم اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کے ساتھ مرید کا تعلق ایسا ہونا چاہئے جیسا عورت کا تعلق مرد سے ہو۔مُرشد کے کسی حکم کا انکار نہ کرے اور اس کی دلیل نہ پوچھے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فرمایا ہے کہ مُنْعَم علیہم کی راہ کے مقید رہیں۔انسان چونکہ طبعاً آزادی کو چاہتا ہے پس حکم کر دیا کہ اس راہ کو اختیار کرے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مؤرخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحه ۳،۲) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیں تو آخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مؤرخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۱ ء صفحہ ۷) سورہ فاتحہ سے ایک عزت کا خطاب مجھے عنایت ہوا۔وہ کیا ہے؟ انْعَبَتَ عَلَيْهِمْ۔الحکم جلد ۵ نمبر۷ مؤرخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۲)