تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 10

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة کی نظر سے چھپے رہے اس میں مذکور ہیں۔سالک کے دل کو اس کے پڑھنے سے یقینی قوت بڑھتی ہے اور شک اور شبہ اور ضلالت کی بیماری سے شفا حاصل ہوتی ہے اور بہت سی اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اور نہایت بار یک حقیقتیں کہ جو تکمیل نفس ناطقہ کے لئے ضروری ہیں۔اس کے مبارک مضمون میں بھری ہوئی ہیں۔اور ظاہر ہے کہ یہ کمالات بھی ایسے ہیں کہ گلاب کے پھول کے کمالات کی طرح ان میں بھی عادتنا ممتنع معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان کے کلام میں مجتمع ہو سکیں اور یہ امتناع نہ نظری بلکہ بدیہی ہے۔کیونکہ جن دقائق و معارف عالیہ کو خدائے تعالیٰ نے عین ضرورت حقہ کے وقت اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں بیان فرما کر ظاہری اور باطنی خوبی کا کمال دکھلایا ہے اور بڑی نازک شرطوں کے ساتھ دونوں پہلوؤں ظاہر و باطن کو کمالیت کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچایا ہے۔یعنی اول تو ایسے معارف عالیہ ضرور یہ لکھے ہیں کہ جن کے آثار پہلی تعلیموں سے مندرس اور محو ہو گئے تھے اور کسی حکیم یا فیلسوف نے بھی اُن معارف عالیہ پر قدم نہیں مارا تھا اور پھر ان معارف کو غیر ضروری اور فضول طور پر نہیں لکھا بلکہ ٹھیک ٹھیک اس وقت اور اس زمانہ میں ان کو بیان فرمایا جس وقت حالت موجودہ زمانہ کی اصلاح کے لئے ان کا بیان کرنا از بس ضروری تھا اور بغیر ان کے بیان کرنے کے زمانہ کی ہلاکت اور تباہی متصور تھی اور پھر وہ معارف عالیہ ناقص اور نا تمام طور پر نہیں لکھے گئے بلکہ کما و کیفا کامل درجہ پر واقعہ ہیں اور کسی عاقل کی عقل کوئی ایسی دینی صداقت پیش نہیں کر سکتی جو ان سے باہر رہ گئی ہو اور کسی باطل پرست کا کوئی ایسا وسوسہ نہیں جس کا ازالہ اس کلام میں موجود نہ ہو۔ان تمام حقائق و دقائق کے التزام سے کہ جو دوسری طرف ضرورات حلقہ کے التزام کے ساتھ وابستہ ہیں فصاحت بلاغت کے ان اعلی کمالات کو ادا کرنا جن پر زیادت متصور نہ ہو۔یہ تو نہایت بڑا کام ہے کہ جو بشری طاقتوں سے بہ بداہت نظر بلند تر ہے۔مگر انسان تو ایسا بے ہنر ہے کہ اگر ادنی اور ناکارہ معاملات کو کہ جو حقائق عالیہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتے کسی رنگین اور فصیح عبارت میں بہ التزام راست بیانی اور حق گوئی کے لکھنا چاہے تو یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں جیسا کہ یہ بات ہر عاقل کے نزدیک نہایت بد یہی ہے کہ اگر مثلاً ایک دوکاندار جو کامل درجہ کا شاعر اور انشا پرداز ہو، یہ چاہے کہ جو اپنی اس گفتگو کو جو ہر روز اسے رنگارنگ کے خریداروں اور معاملہ داروں کے ساتھ کرنی پڑتی ہے، کمال بلاغت اور رنگینی عبارت کے ساتھ کیا کرے اور پھر یہ بھی التزام رکھے کہ ہر محل اور ہر موقعہ میں جس قسم کی گفتگو کرنا ضروری ہے وہی کرے مثلاً جہاں کم بولنا مناسب ہے وہاں کم بولے اور جہاں بہت مغز زنی مصلحت ہے وہاں بہت گفتگو کرے اور جب اس میں اور اس کے خریدار میں کوئی بحث آ پڑے تو وہ طرز۔