تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 302

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة اور زراعت کے متعلق ان تمام اُمور میں کامیابی ہونا مشکل اور غیر ممکن ہے جب تک کہ ان کے بارہ میں ایک مستقیم راہ نہ ملے کہ کس طور سے اس کام کو شروع کرنا چاہیئے اور ہر ایک عقلمند انسان مشکلات کے وقت میں یہی اپنا فرض سمجھتا ہے کہ اس مشکل سر بستہ کے بارے میں ایک لمبے وقت تک رات کو اور دن کو سوچتا رہے تا کہ اس مشکل کشائی کے لئے کوئی راہ نکل آوے اور ہر ایک صنعت اور ہر ایک ایجاد اور ہر ایک پیچیدہ اور الجھے ہوئے کام کو چلانا اس بات کو چاہتا ہے کہ اُس کام کے لئے راہ نکل آوے۔پس دنیا اور دین کی اغراض کے لئے اصل دُعا راہ نکالنے کی دُعا ہے جب سیدھی راہ کسی امر کے متعلق ہاتھ میں آجائے تو یقیناً وہ امر بھی خدا کے فضل سے حاصل ہو جاتا ہے۔خدا کی قدرت اور حکمت نے ہر ایک مدعا کے حصول کے لئے ایک راہ رکھی ہے مثلاً کسی بیمار کا ٹھیک ٹھیک علاج نہیں ہو سکتا جب تک اُس مرض کی حقیقت سمجھنے اور نسخہ کے تجویز کے لئے ایک ایسی راہ نہ نکل آوے کہ دل فتوی دے دے کہ اس راہ میں کامیابی ہوگی بلکہ کوئی انتظام دنیا میں ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس انتظام کے لئے ایک راہ پیدا نہ ہو۔پس راہ کا طلب کرنا طالب مقصد کا فرض ہوا اور جیسا کہ دنیا کی کامیابی کا صحیح سلسلہ ہاتھ میں لینے کے لئے پہلے ایک راہ کی ضرورت ہے جس پر قدم رکھا جائے ایسا ہی خدا کا دوست اور مور دمحبت اور فضل بننے کے لئے قدیم سے ایک راہ کی ضرورت پائی گئی ہے اسی لئے دوسری سورۃ میں جو سورۃ البقر ہے جو اس سورۃ کے بعد ہے سورۃ کے شروع میں ہی فرمایا گیا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ٣) یعنی انعام پانے کی یہ راہ ہے جو ہم بیان کرتے ہیں۔" (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۵۹،۵۸) یہ دُعا یعنی دُعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ایک جامع دُعا ہے کہ جو انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ مشکلات دینی اور دنیوی کے وقت میں اول جس چیز کی تلاش انسان کا فرض ہے وہ یہی ہے کہ اس امر کے حصول کے لئے وہ صراط مستقیم تلاش کرے یعنی کوئی ایسی صاف اور سیدھی راہ ڈھونڈے جس سے بآسانی اس مطلب تک پہنچ سکے۔اور دل یقین سے بھر جائے شکوک سے نجات ہو لیکن انجیل کی ہدایت کے موافق روٹی مانگنے والا خدا جوئی کی راہ اختیار نہ کرے گا اُس کا مقصد تو روٹی ہے جب روٹی مل گئی تو پھر اس کو خدا سے کیا غرض یہی وجہ ہے کہ عیسائی صراط مستقیم سے گر گئے اور ایک نہایت قابل شرم عقیدہ جو انسان کو خدا بنانا ہے ان کے گلے پڑ گیا۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۰،۵۹) اسلام وہ مذہب ہے جس کے بچے پیروؤں کو خدا تعالیٰ نے تمام گذشتہ راستبازوں کا وارث ٹھہرایا ہے اور سورۃ فاتحہ میں راہِ راست کے لئے دُعا کی گئی اور دوسری سورۃ میں گویا وہ دعا قبول ہوکر راہ راست بتلائی گئی ہے۔منہ