تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 296

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۶ سورة الفاتحة يُشيرُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ إِلى هَذِهِ الْمَفْسَدَةِ | اور حد سے بڑھنے کی وجہ سے عیسائیوں کے دل بگڑ گئے۔ وَالْغَوَايَةِ وَيُؤْمِيءُ إِلَى أَنَّ الْمُنْعَمِيْنَ مِنَ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی فساد اور گمراہی الْمُرْسَلِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَ الْمُحَدِّثِينَ إِنَّمَا کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور اس طرف بھی اشارہ فرماتا يُبْعَثُونَ لِيَصْطَبِغَ النَّاسُ بِصِبْغِ تِلْكَ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ) انعام پانے والے لوگ یعنی الْكِرَامِ لَا أَنْ يَعْبُدُوهُمْ وَ يَتَّخِذُوهُمْ رسول ، نبی اور محدث اس لئے مبعوث کئے جاتے ہیں کہ آلِهَةً كَالْأَصْنَامِ فَالْغَرَضُ مِنْ إِرْ سَالِ لوگ ان بزرگ ہستیوں کے رنگ میں رنگین ہوں۔ نہ اس تِلْكَ النُّفُوسِ الْمُهَنَّبَةِ ذَوِی الصَّفَاتِ لئے کہ وہ اُن کی عبادت کرنے لگیں اور انہیں بتوں کی طرح الْمُطَهَّرَةِ أَنْ يَكُونَ كُلُّ مُتَّبِع قَرِيعَ تِلْكَ معبود بنا لیں ۔ پس ان با اخلاق پاکیزہ صفات والی ہستیوں الصَّفَاتِ لَا قَارِعَ الْجَبْهَةِ عَلَى هَذِهِ کو دنیا میں بھیجنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ( ان کا ) ہر متبع ان الصَّفَاةِ، فَأَوْحَى اللَّهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لِأُولى صفات سے متصف ہو نہ یہ کہ اُنہیں کو پتھر کا بہت بنا کر اُس الْفَهْمِ وَالدِّرَايَةِ إِلى أَنَّ كَمَالَاتِ پر ماتھا رگڑنے والا ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں النَّبِيِّينَ لَيْسَتْ كَكَمَالَاتِ رَبِّ سمجھ بوجھ اور عقل رکھنے والوں کو اشارہ فرمایا ہے کہ نبیوں الْعَالَمِينَ وَأَنَّ اللهَ أَحَدٌ صَمَدٌ وَحِيدٌ لَّا کے کمالات پروردگار عالم کے کمالات کی طرح نہیں شَرِيكَ لَهُ فِي ذَاتِهِ وَلَا فِي صِفَاتِهِ وَأَمَّا ہوتے ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا، بے نیاز الْأَنْبِيَاءُ فَلَيْسُوا كَذلِكَ بَلْ جَعَلَ اللهُ اور یگانہ ہے۔ اُس کی ذات اور صفات میں اُس کا کوئی لَهُمْ وَارِثِينَ مِنَ الْمُتَّبِعِينَ الصَّادِقِينَ شریک نہیں ۔ لیکن نبی ایسے نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ اُن فَأُمَّتُهُمْ وَرَثَاؤُهُمْ يَجِدُونَ مَا وَجَدَ کے سچے متبعین میں سے اُن کے وارث بناتا ہے۔ پس اُن أَنْبِيَاؤُهُمْ إِنْ كَانُوا لَهُمْ مُّتَّبِعِيْنَ وَإِلَى کی اُمت اُن کی وارث ہوتی ہے۔ وہ سب کچھ پاتے ہیں جو هُذَا أَشَارَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ اِنْ اُن کے نبیوں کو ملا ہو بشرطیکہ وہ اُن کے پورے پورے متبع كنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ بنیں ۔ اور اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آیت قُلْ اِن اللهُ * فَانْظُرْ كَيْفَ جَعَلَ الْأُمَّةَ أَحِبَّاءَ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ * میں اشارہ ،، ود روو (آل عمران: ۳۲) ترجمہ۔ تو کہہ کہ (اے لوگو ) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو (اس صورت میں ) وہ ( بھی ) تم سے محبت کرے گا۔