تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 295

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة الفاتحة یہ دعا اس واسطے سکھائی کہ تا تم لوگ صرف اس بات پر ہی نہ بیٹھ رہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ بلکہ اس طرح سے اعمال بجالاؤ کہ ان انعاموں کو حاصل کر سکو جو خدا کے مقرب بندوں پر ہوا کرتے ہیں ۔ بعض لوگ مسجدوں میں بھی جاتے ہیں نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے ارکانِ اسلام بھی بجالاتے ہیں مگر خدا کی نصرت اور مردان کے شامل حال نہیں ہوتی ۔ اور ان کے اخلاق اور عادات میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عبادتیں بھی رسمی عبادتیں ہیں حقیقت کچھ بھی نہیں۔ کیونکہ احکام الہی کا بجا تو ایک پیج کی طرح ہوتا ہے جس کا اثر روح اور وجود دونوں پر پڑتا ہے ایک شخص جو کھیت کی آبپاشی کرتا اور بڑی محنت سے اس میں بیج ہوتا ہے اگر ایک دو ماہ تک اس میں انگوری نہ نکلے تو ماننا پڑتا ہے کہ پیچ خراب ہے۔ یہی حال عبادات کا ہے اگر ایک شخص خدا کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے نمازیں پڑھتا ہے روزے رکھتا ہے اور بظاہر نظر احکام الہی کو حتی الوسع بجالاتا ہے لیکن خدا کی طرف سے کوئی خاص مدد اس کے شاملِ حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیچ وہ بورہا ہے وہی خراب ہے۔ (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲ مؤرخه ۶ رجنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳) لانا ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ فِي آيَةِ اهْدِنَا الصِّرَاطَ وو پھر جان لو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی آیت میں نفوس کو شرک کی إشَارَةً عَظِيمَةً إِلى تَزْكِيَةِ النُّفُوسِ مِنْ باریک راہوں سے پاک کرنے اور ان راہوں کے دَقَائِقِ الشِّرْكِ وَاسْتِيْصَالِ أَسْبَابِهَا وَ اسباب کو مٹانے کی طرف عظیم اشارہ ( پایا جاتا ) ہے۔ لِأَجْلِ ذَلِكَ رَغَبَ اللهُ فِي الْآيَةِ فِي تَحْصِيلِ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ( لوگوں کو ) اس آیت میں نبیوں كَمَالَاتِ الْأَنْبِيَاءِ وَ اسْتِفْتَاحِ أَبْوَابِهَا کے کمالات کے حاصل کرنے اور ان (کمالات) کے فَإِنَّ أَكْثَرَ الشِرْكِ قَدْ جَاءَ فِي الدُّنْيَا مِنْ دروازوں کو کھولے جانے کی استدعا کی ترغیب دی ہے بَابِ إطرَاءِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ وَ إِنَّ کیونکہ زیادہ تر شرک نبیوں اور ولیوں کے متعلق الَّذِينَ حَسِبُوا نَبِيُّهُمْ وَحِيدًا فَرِيدًا وَ غلو کرنے کی وجہ سے دنیا میں آیا ہے اور جن لوگوں نے وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ كَذَاتِ حَضْرَةِ اپنے نبی کو ایسا یکتا اور منفرد اور ایسا وحدہ لاشریک گمان الْكِبْرِيَاءِ فَكَانَ مَالَ أَمْرِهِمْ أَنَّهُمُ اتَّخَذُوهُ کیا جیسے ذات رب العزت ہے اُن کا مال کار یہ ہوا کہ إلهَا بَعْدَ مُدَّةٍ وَ هُكَذَا فَسَدَتْ قُلُوبُ اُنہوں نے کچھ مدت کے بعد اُسی نبی کو معبود کو معبود بنالیا۔ اسی النَّصَارَى مِنَ الْإِطْرَاءِ وَالْاعْتِدَاءِ ، فَاللهُ طرح ( حضرت عیسیٰ کی تعریف میں ) مبالغہ آرائی کرنے