تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 294
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۴ میں بھی علم اور حکمت ہی خدا سے چاہتی ہے اور وہ علم مانگا ہے جو تمام دنیا میں متفرق تھا۔سورة الفاتحة (براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۰۲ تا ۵۰۵) قانونِ قدرت میں قبولیت دعا کی نظیریں موجود ہیں اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے اسی لئے اُس نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دُعا تعلیم فرمائی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا منشا اور قانون ہے اور کوئی نہیں جو اس کو بدل سکے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دُعا سے پایا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر۔ان الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر تو اشارۃ النص کے طور پر اس سے دُعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے لیکن اس کے سر پر ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ اياك نستعين بتا رہا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھا ئیں یعنی صراط مستقیم کے منازل کے لئے قومی سلیم سے کام لے کر استعانت الہی کو مانگنا چاہئے پس ظاہری اسباب کی رعایت ضروری ہے جو اس کو چھوڑتا ہے وہ کافر نعمت ہے دیکھو! یہ زبان جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور عروق و اعصاب سے اس کو بنایا ہے اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم بول نہ سکتے ایسی زبان دُعا کے لئے عطا کی جو قلب کے خیالات اور ارادوں تک کو ظاہر کر سکے اگر ہم دُعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں تو ہماری شور بختی ہے۔بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جاویں تو وہ یک دفعہ ہی کام چھوڑ بیٹھتی ہے یہ رحیمیت ہے ایسا ہی قلب میں خشوع و خضوع کی حالت رکھی اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں ودیعت کی ہیں پس یا درکھو اگر ہم ان قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دُعا کرتے ہیں تو یہ دُعا کچھ بھی مفید اور کارگر نہ ہوگی کیونکہ جب پہلے عطیہ سے کچھ کام نہیں لیا تو دوسرے سے کیا نفع اٹھا ئیں گے اس لئے اھدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے پہلے اِيَّاكَ نَعْبُدُ بتا رہا ہے کہ ہم نے تیرے پہلے عطیوں اور قوتوں کو بریکار اور برباد نہیں ، کیا۔یادرکھورحمانیت کا خاصہ یہی ہے کہ وہ رحیمیت سے فیض اٹھانے کے قابل بنادے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے جو ادعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن :۶۱) فرمایا یہ نری لفاظی نہیں ہے بلکہ انسانی شرف اسی کا متقاضی ہے مانگنا انسانی خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالی کا جو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔۔۔۔۔۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا میں یہ مقصود ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر اور پھر یہ کہہ کر کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور بھی صراحت کر دی کہ ہم اس صراط کی ہدایت چاہتے ہیں جو منعم علیہ گروہ کی راہ ہے۔اور مغضوب گروہ کی راہ سے بیچا جن پر بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب الہی آگیا اور الضالین کہہ کر یہ دعا تعلیم کی کہ اس سے بھی محفوظ رکھا کہ تیری حمایت کے بدوں بھٹکتے پھریں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مؤرخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۲،۱)