تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 293
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۳ سورة الفاتحة شرائط خود بخود پورے ہوتے جاتے ہیں اسلامی نجات یہی ہے ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مؤرخہ ۷ را گست ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۲۷) دنیا کے لئے جو دعا کی جاتی ہے وہ جہنم ہے۔ دُعا صرف خدا کو راضی کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ہونی چاہئے باقی جتنی دُعائیں ہیں وہ خود اس کے اندر آ جاتی ہیں۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ بڑی دُعا ہے صراط مستقیم گو یا خدا کو شناخت کرتا ہے اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کل گناہوں سے بچتا ہے اور صالحین میں داخل ہوتا ہے اگر ایک آدمی با خدا ہو تو سات پشت تک خدا تعالیٰ اس کی اولاد کی خبر گیری کرتا ہے ۔۔۔۔۔ دعا ایسی کرنی چاہئے کہ نفس اتارہ گداز ہو کر نفس مطمئنہ کی طرف آجاوے اگر وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ( جیسے کے معنی مذکور ہوئے ) طلب کرتا رہے گا تو دوسری جو اُسے ضرورتیں ہیں جن کے لئے وہ دعا چاہتا ہے وہ خدا خود پوری کر دے گا۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴، ۵) اصل گناہ شرک ہے اور جو کوئی شرک سے یعنی مال اور رزق اور علم اور عقل اور اعمال اور نفس اور بہت اور شیطان اور دوسرے معبودوں سے بیزار ہو کر صرف خدا ہی کو اپنا خدا جانے اور اُس کے فضل کا منتظر رہے تو وہ بیشک رستگار ہو کر جنت میں جائے گا۔ لیکن وہ آدمی کہ ان شرکوں میں سے کسی شرک میں گرفتار ہے تو زندان سفر میں محبوس ہوگا اور مکر وہ لباس میں رہے گا یہاں تک کہ اس پر فضل ہو۔ اب یہ مقام بڑا نازک اور نہایت دقیق اور لغزش کی جگہ ہے اور تھوڑے ہیں جو رستگار ہوتے ہیں اب سنئے کہ جو جو مقامات واسطہ دفع اس شرک وارد ہیں اوّل سورہ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش اور تقرب میں مدد بھی تجھ ہی سے مانگتے ہیں اس اعتقاد سے وہ سب شرک جاتے رہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو آپ ہم کو سیدھا راستہ بتلا صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اُن کا راستہ جن پر تیر افضل ہوا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اور بچا ہم کو اُن کے راستہ سے جن پر تیرا غضب ہے اور اُن سے جو راہ راست پر قائم نہیں رہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - الجزو نمبر 1 ۔ یعنی اے باری تعالیٰ ہم پر وہ صراط مستقیم ظاہر کر جو تو نے اُن تمام اہلِ کمال لوگوں پر ظاہر کیا جن پر تیرا فضل اور کرم تھا چونکہ اہلِ کمال لوگوں کا صراط مستقیم یہی ہے کہ وہ علی وجہ البصیرت حقائق کو معلوم کرتے ہیں نہ اندھوں کی طرح ۔ پس اس دُعا کا ماحصل تو یہی ہوا کہ خداوندا وہ تمام علوم حقہ اور معارف صحیحہ اور اسرار عمیقہ اور حقائق دقیقہ جو دنیا کے تمام اہلِ کمال لوگوں کو متفرق طور پر وقتاً فوقتاً تو عنایت کرتا رہا ہے اب وہ سب ہم میں جمع کر ۔ سود یکھئے کہ اس دُعا