تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 287
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۷ سورة الفاتحة مل گیا۔پھر اس آیت کے کیا معنے ہوئے کہ صِرَاطَ الَّذِینَ اَنْعَمْتَ عَلَیهِمْ۔کیا انہیں ظنی الہاموں کا نام انعام ہے جو شیطان اور رحمن میں مشترک ہیں۔جائے شرم !! تجلیات الہیہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۳) نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے مکالمہ مخاطبہ کا اُس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔۔۔۔۔۔اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : ۱۱۱) اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اُن کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہر تی تھی۔اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اس کا سکھلانا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔روووو الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱، ۳۱۲) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصّہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۴ حاشیه ) چھٹی آیت اس سورۃ کی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک ہادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو۔تخته گوار و یه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۸۴ حاشیه ) اعْلَمُ أَنَّ فِي ايَةِ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تَبْشِيرُ واضح ہو کہ آیت اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں مومنوں کے لئے لِلْمُؤْمِنِينَ وَإِشَارَةٌ إِلى أَنَّ اللهَ اَعَدَّلَهُمُ ایک خوشخبری ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ كُلَّمَا أعْطَى لِلْانْبِيَاءِ السَّابِقِيْنَ وَلِذَالِك نے ان کے لئے وہ سب کچھ تیار کر رکھا ہے جو اس نے