تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 284
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۴ سورة الفاتحة حکمت والا ہے وہ نبوت کی تاثیرات کو قائم رکھتا ہے اور اب بھی اس نے اس سلسلہ کو اسی لئے قائم کیا ہے تا وہ الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۳،۲) اس امر کی سچائی پر گواہ ہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اور تعلیم کرتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور اس کے یہی معنے ہیں کہ یا الہی قرب اور محبت اور معرفت کا ہمیں وہ راہ عنایت کر جو تو نے تمام نبیوں اور مقدسوں اور معصوموں کو عنایت فرمایا ہے پس اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ میں بخل نہیں۔پس جبکہ انسان ظلی طور پر نبیوں کے مراتب تک پہنچ جاتا ہے تو اس کو اہل بیت یا امام حسین کے مرتبہ تک پہنچنے سے کونسی بات سد راہ ہے اگر ابواب قرب اور محبت و معرفت کے کھلے نہ ہوتے اور صرف حضرت علی یا امام حسین یا چند دوسرے اہلِ بیت ( پر ) ہرسہ کمالات ختم ہو کر آئندہ کو محکم قفل اُن پر لگ جاتا تو اس صورت میں اسلام اسلام نہ تھا اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پڑھنا عبث ہو جا تا خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے بخل نہیں رکھتا جو ڈھونڈے گا پائے گا۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸۳) خدا اپنی قدرتوں میں کمزور نہیں وہ یقین دلانے کے لئے ایسے خارق عادت طریقے اختیار کر لیتا ہے کہ انسان جیسے آفتاب کو دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ آفتاب ہے ایسا ہی خدا کے کلام کو پہچان لیتا ہے کیا ان کا یہ خیال ہے کہ آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیک خدا تعالی اس بات پر قادر تھا کہ اپنی پاک وحی کے ذریعے سے حق کے طالبوں کو سر چشمہ، یقین تک پہنچا دے مگر پھر بعد اس کے اس فیضان پر قادر نہ رہایا قادر تو تھا مگر دانستہ اس اُمت غیر مرحومہ کے ساتھ بخل کیا اور اس دُعا کو بھول گیا جو آپ ہی سکھلائی تھی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - ( البدر جلد ۳ نمبر ۵ مؤرخہ یکم فروری ۱۹۰۴ صفحه ۲) اللہ تعالیٰ تو سب کو ولی کہتا ہے اور سب کو ولی بنانا چاہتا ہے اس لئے وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی ہدایت کرتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ تم منعم علیہ گروہ کی مانند ہو جاؤ۔جو کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں ہو سکتا وہ اللہ تعالیٰ پر بخل کی تہمت لگاتا ہے اور اس لئے یہ کلمہ کفر ہے۔(احکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مؤرخہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۵، صفحه ۱) یا درکھو کہ خدا کے فیوض بے انتہا ہیں جو اُن کو محدود کرتا ہے وہ اصل میں خدا کو محدود کرتا ہے اور اس کی کلام کو عبث قرار دیتا ہے وہی بتلاوے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں جب وہ اُنہی کمالات اور انعامات کو طلب کرتا ہے جو کہ سابقین پر ہوئے تو اب اُن کو محدود کیسے مانتا ہے اگر وہ محدود ہیں اور بقول شیعہ بارہ امام تک ہی رہے تو پھر سورہ فاتحہ کو نماز میں کیوں پڑھتا ہے؟ وہ تو اُس کے عقیدہ کے