تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 283

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ سورة الفاتحة فرما دیا ہے کہ نبی ، صدیق، شہید، صالح لوگ تھے اور اُن کا برابر انعام یہی الہام اور وحی کا نزول تھا۔بھلا اگر خدا نے اس دعا کا سا نتیجہ جو ہے اُس سے محروم ہی رکھنا تھا تو پھر کیوں ایسی دعا سکھائی۔( الحکم جلد نمبر ۱۴ مؤرخه ۱۷ ۱۷ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۵) نبوت کے معنے مکالمہ کے ہیں جو غیب کی خبر دیوے وہ نبی ہے اگر آئندہ نبوت کو باطل قرار دو گے تو پھر یہ اُمت خیر الامت نہ رہے گی بلکہ کالانعام ہوگی اور سورہ فاتحہ کی تعلیم جس میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہے بے سود ٹھہرے گی کیونکہ انعام اور اکرام تو خدا کا اب کسی پر ہونا نہیں تو پھر دُعا کا فائدہ کیا ہوا اور نعوذ باللہ یہ مانا پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں قدسی قوت ہی نہ تھی۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مؤرخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۹) اگر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کو بند کر دیا ہے اور قفل لگا دیا ہے تو پھر اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا تعلیم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک شخص کی مشکیں باندھ دی جاویں اور پھر اس کو ماریں کہ تو اب چل کر کیوں نہیں دکھاتا۔بھلا وہ کس طرح چل سکتا ہے۔فیوض اور برکات کے دروازے تو خود بند کر دیئے۔اور پھر یہ بھی کہہ دیا کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا ہر روز ہر نماز میں کئی مرتبہ مانگا کرو۔اگر قانون قدرت یہ رکھا تھا کہ آپ کے بعد منجزات اور برکات کا سلسلہ ختم کر دیا تھا اور کوئی فیض اور برکت کسی کو ملنا ہی نہیں تھی تو پھر اس دعا سے کیا مطلب؟ اگر اس دعا کا کوئی اور نتیجہ نہیں تو پھر نصاریٰ کی تعلیم کے آثار اور نتائج اور اس تعلیم کے آثار اور نتائج میں کیا فرق ہوا لکھا تو انجیل میں یہی ہے کہ میری پیروی سے تم پہاڑ کو بھی ہلا سکو گے مگر اب وہ بجوتی بھی سیدھی نہیں کر سکتے۔لکھا ہے کہ میرے جیسے معجزات دکھاؤ گے مگر کوئی کچھ نہیں دکھا سکتا۔لکھا ہے کہ زہریں کھالو گے تو اثر نہ کریں گی مگر اب سانپ ڈستے اور کتے کاٹتے ہیں اور وہ ان زہروں سے ہلاک ہوتے ہیں اور کوئی نمونہ وہ دُعا کا نہیں دکھا سکتے۔ان کا وہ نمونہ دعا کی قبولیت کا نہ دکھا سکنا ایک سخت حربہ اور حجت ہے عیسائی مذہب کے ابطال پر کہ اُس میں زندگی کی روح اور تاثیر نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ انہوں نے نبی کا طریق چھوڑ دیا۔اب اگر ہم بھی یہ اقرار کر لیں کہ اب نشانات اور خوارق نہیں ہوتے اور یہ دعا جو سکھائی گئی ہے اس کا کوئی اثر اور نتیجہ نہیں تو کیا اُس کے یہ معنے نہیں ہونگے کہ یہ اعمال معاذ اللہ بے فائدہ ہیں؟ نہیں خدا تعالیٰ جو دانا اور