تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 272
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۲ سورة الفاتحة بند ہیں تو خدا تعالیٰ کے سچے طالبوں کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی دل توڑنے والا واقعہ نہ ہوگا گویا وہ جیتے ہی مر گئے اور ان کے ہاتھ میں بجز چند خشک قصوں کے اور کوئی مغز اور بات نہیں اور اگر شیعہ لوگ اس عقیدہ کو سچ مانتے ہیں تو پھر کیوں پنجوقت نماز میں یہ دُعا پڑھتے ہیں اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کیونکہ اس دُعا کے تو یہی معنی ہیں کہ اے خدائے قادر! ہم کو وہ راہ اپنے قرب کا عنایت کر جو تو نے نبیوں اور اماموں اور صدیقوں اور شہیدوں کو عنایت کیا تھا پس یہ آیت صاف بتلاتی ہے کہ کمالات امامت کا راہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا اس عاجز نے اسی راہ کے اظہار ثبوت کے لئے ہیں ہزار اشتہار مختلف دیا روا مصار میں بھیجا ہے۔اگر یہ برکت نہیں تو پھر اسلام میں فضیلت ہی کیا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۹ مؤرخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۲) اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس جگہ تمام مفسر قائل ہیں کہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی ہدایت سے غرض تشتبه بالانبیاء ہے جو اصل حقیقت اتباع ہے۔۔۔۔۔خدا نے انبیاء علیہم السلام کو اسی لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں اُن کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبوت لغو ٹھہرتی ہے۔نبی اس لئے نہیں آتے کہ اُن کی پرستش کی جائے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ لوگ اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن سے تشبہ حاصل کریں اور اُن میں فنا ہو کر گویا وہی بن جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران :۳۲) پس خدا جس سے محبت کرے گا کون سی نعمت ہے جو اُس سے اٹھارکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبہ و فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہے۔اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگر وہی جو جاہل سفیہ یا ملحد بے دین ہوگا۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۱۱، ۴۱۲) انبیاء من حيث انطلق باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ خلقی طور پر ہر ایک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہو کر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اس ظلمی وجود کے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے اهْدِنَا القِرَاط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے خدا ہمارے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو تیرے ان بندوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انعام جو انبیاء پر ہوا تھا جس کے مانگنے کے لئے اس دعا میں حکم ہے وہ درم اور دینار کی قسم میں سے نہیں بلکہ وہ انوار اور برکات اور محبت اور یقین اور خوارق اور