تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 271
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ سورة الفاتحة کے حقائق اور معارف کھلتے ہیں۔لیکن یہ فضل اور فیض بھی الہی تائید سے آتا ہے۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور فضل کے بغیر ایک انگلی کا ہلانا بھی مشکل ہے۔ہاں یہ انسان کا فرض ہے کہ سعی اور مجاہدہ کرے جہاں تک اس سے ممکن ہے اور اس کی توفیق بھی خدا تعالیٰ ہی سے چاہے۔کبھی اس سے مایوس نہ ہو کیونکہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود بھی فرمایا۔لَا يَا يُعَسُ مِن روح الله إِلا الْقَوْمُ الكَفِرُونَ (يوسف: ۸۸) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کافر نا امید ہوتے ہیں۔نا امیدی بہت ہی بُری چیز ہے۔اصل میں نا امید وہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے یہ خوب یا درکھو کہ ساری خرابیاں اور برائیاں بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایا اِنَّ بَعْضَ الظَّلِنِ اثْه - (الحجرات: ۱۳) الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مؤرخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲) خدا کا قرب اور نزدیکی بھی اور زندگی بھی انعام ( انْعَمْتَ عَلَيہمہ ) میں شامل ہے۔مخالفین اس انعام میں میسیج کو تو شامل کرتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے نصیب رکھتے ہیں۔کیوں ان کو اس عقیدہ سے شرم نہیں آتی اور لمبی زندگی اس طرح انعام میں شمار ہو سکتی ہے کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ واماما يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد : ١٨) احکام جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ر فروری ۱۹۰۵ صفحه ۵) افسوس ان لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوا یہ کیوں نہیں سمجھتے کیا قرآن میں جو اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہا گیا تھا یہ یونہی ایک بے معنی اور بے مطلب بات تھی اور نرا ایک قصہ ہی قصہ ہے؟ کیا وہ انعام کچھ نہ تھا خدا نے نراد ھو کا ہی دیا ہے اور وہ اپنے بچے طالبوں اور صادقوں کو بدنصیب ہی رکھنا چاہتا ہے؟ کس قدر ظلم ہے اگر یہ خدا کی نسبت قرار دیا جاوے کہ وہ نری لفاظی ہی سے کام لیتا ہے۔حقیقت یہ نہیں ہے یہ ان لوگوں کی اپنی خیالی باتیں ہیں قرآن شریف در حقیقت انسان کو اُن مراتب اور اعلیٰ مدارج پر پہنچانا چاہتا ہے جو انعم عَلَيْهِمْ کے مصداق لوگوں کو دیئے گئے تھے اور کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوتا جب کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے زندہ ثبوت موجود نہ ہوں۔ہمارا یہ مذہب ہر گز نہیں ہے کہ آریوں کی طرح کوئی خدا کا پریمی اور بھگت کتنی ہی دُعائیں کرے اور رو رو کر اپنی جان کھوئے اور اُس کا کوئی نتیجہ نہ ہو۔اسلام خشک مذہب نہیں ہے۔اسلام ہمیشہ ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے نشانات اس کے ساتھ ہیں پیچھے رہے ہوئے نہیں ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۶ مؤرخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۳) اگر یہی سچ ہے کہ خدا تعالیٰ تمام برکتوں اور امامتوں اور ولایتوں پر مہر لگا چکا ہے اور آئندہ بکلی وہ راہیں 121