تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 267
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۷ سورة الفاتحة اعلیٰ کمال ہے۔ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کمالات کے حاصل کرنے کے لئے جہاں مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے اس طریق پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کوشش کرے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۶،۵)۔نفور سے قرآن کریم و دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ پہلی ہی سورہ میں اللہ تعالیٰ نے دُعا کی تعلیم دی ہے۔اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ دُعا تب ہی جامع ہو سکتی ہے کہ وہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مضرتوں سے بچاتی ہو۔پس اس دُعا میں تمام بہترین منافع جو ہو سکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اُس سے بچنے کی دُعا ہے میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہیں۔اوّل نبی ، دوم صدیق ، سوم شہید، چہارم صالحین۔پس اس دُعا میں گویا ان چاروں گروہوں کے کمالات کی طلب ہے نبیوں کا عظیم الشان کمال یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے فَلا يُظهرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدَّانِ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رسول (الجن : ۲۸،۲۷) یعنی خدا تعالیٰ کے غیب کی باتیں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتی ہیں ہاں اپنے نبیوں میں سے جس کو وہ پسند کرے۔جو لوگ نبوت کے کمالات سے حصہ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو قبل از وقت آنے والے واقعات کی اطلاع دیتا ہے۔اور یہ بہت بڑا عظیم الشان نشان خدا کے مامور اور مرسلوں کا ہوتا ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی معجز نہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مؤرخه ۱۷/ مارچ۱۹۰۱ ء صفحه ۳) حسب منطوق آیت ثُمَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ (الواقعة:۴۱،۴۰) خالص محمدی گروہ جو ہر ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور تو بہ نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے یہ اسلام میں صرف دو گروہ ہیں یعنی گروہ اولین و گروه آخرین جو صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت سے مراد ہے اور چونکہ حکم کثرت مقدار اور کمال صفائی انوار پر ہوتا ہے اس لئے اس سورۃ میں اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ کے فقرہ سے مراد یہی دونوں گروہ ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ اپنی جماعت کے اور مسیح موعود معہ اپنی جماعت کے۔خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتدا سے اس اُمت میں دو گروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورہ فاتحہ کے فقرہ لعنت عَلَيْهِمْ میں اشارہ ہے (۱) ایک اولین جو جماعتِ نبوی ہے (۲) دوسرے آخرین جو جماعت مسیح موعود ہے۔, (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۶،۲۲۵)