تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 266

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة الفاتحة طلب تھا تو خدا تعالیٰ نے دوسرے مقام میں خود اس کی تشریح کر دی اور فرمایا کہ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَم اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيْنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ (النِّسَاءِ :۷۰) جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۱۵) چار مراتب کمال ہیں جن کو طلب کرنا ہر ایک ایماندار کا فرض ہے اور جو شخص ان سے بکلی محروم ہے وہ ایمان سے محروم ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کے لئے یہی دُعا مقرر کی ہے کہ وہ ان ہر چہار کمالات کو طلب کرتے رہیں۔اور وہ دُعا یہ ہے اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور قرآن شریف کے دوسرے مقام میں اس آیت کی تشریح کی گئی ہے اور ظاہر فرمایا گیا ہے کہ منعم علیہم سے مراد نبی اور صدیق اور شہید اور صالحین ہیں۔اور انسان کامل ان ہر چہار کمالات کا مجموعہ اپنے اندر رکھتا ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۲۳) انسانی زندگی کا مقصد اور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے جس کو اس سورۃ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یا اللہ ہم کو سیدھی راہ دکھا ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام ہوا۔یہ وہ دعا ہے جو ہر وقت ہر نماز اور ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے اس قدر اس کا تکرار ہی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ہماری جماعت یادر کھے کہ یہ معمولی سی بات نہیں ہے۔اور صرف زبان سے طوطے کی طرح ان الفاظ کا رٹ دینا اصل مقصود نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو انسانِ کامل بنانے کا ایک کارگر اور خطا نہ کرنے والا نسخہ ہے جسے ہر وقت نصب العین رکھنا چاہئے اور تعویذ کی طرح مد نظر رہے اس آیت میں چار قسم کے کمالات کے حاصل کرنے کی التجا ہے۔اگر یہ ان چار قسم کے کمالات کو حاصل کرے گا تو گویا دُعا مانگنے اور خلق انسانی کے حق کو ادا کرے گا اور ان استعدادوں اور قومی کے بھی کام میں لانے کا حق ادا ہو جائے گا جو اس کو دی گئی ہیں۔اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے کہ قرآن شریف کے بعض حصہ دوسرے کی تفسیر اور شرح ہیں ایک جگہ ایک امر بطریق اجمال بیان کیا جاتا ہے اور دوسری جگہ وہی امر کھول کر بیان کر دیا گیا ہے گویا دوسرا پہلے کی تفسیر ہے۔پس اس جگہ جو یہ فرما یا صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ۔تو یہ بطریق اجمال ہے لیکن دوسرے مقام پر منعم علیہم کی خود ہی تفسیر کر دی ہے مِنَ النَّيْنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔نبی۔صدیق۔شہدا اور صالح - انبیاء علیہم السلام میں چاروں شانیں جمع ہوتی ہیں کیونکہ یہ