تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 264
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۴ سورة الفاتحة 60 الْمَرَامِ لِأَنَّهُ مَقَامُ رَّفِيعُ وَمَرَامٌ مَّنِيعٌ مقام ہے اور مشکل سے حاصل ہونے والا مقصد ہے جو لَّا يَحْضُلُ لِأَحَدٍ إِلَّا بِفَضْلِ رَبِّهِ لَا يَجُهْدِ صرف فضل الہی سے ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے نہ کہ نفس کی نَفْسِهِ فَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ يَضْطَرَّ الْعَبْدُ کوشش سے۔پس ضروری ہے کہ بندہ اس نعمت کو حاصل لِتَحْصِيْلِ هَذِهِ النِعْمَةِ إِلى حَضْرَةِ الْعِزَّةِ کرنے کے لئے بڑے اضطرار سے بارگاہ ایزدی کی طرف وَيَسْأَلُهُ إِنْجَاحَ هذِهِ الْمُنْيَةِ بِالْقِيَامِ و بڑھے اور اُس سے اس آرزو میں کامیابی کے لئے قیام، رکوع الرُّكُوعِ وَ السَّجْدَةِ وَ التَّمَرُّغ عَلی تُرب اور سجدہ کرتے ہوئے سوالیوں اور مجبوروں کی طرح ذلت کی الْمَذَلَّةِ بَاسِطًا ذَيْلَ الرّاحَةِ وَمُتَعَزِضًا خاک میں لتھڑ کر ہاتھوں کی ہتھیلیاں پھیلا پھیلا کر بخشش مانگتے لِلْإِسْتِمَاحَةِ كَالسَّائِلِينَ الْمُضْطَرِينَ | ہوئے التجائیں کرتار ہے۔( ترجمہ از مرتب ) کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۳۳ تا ۱۳۵) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیں تو آخر اللہ تعالی ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔دعا کامل تب ہوتی ہے کہ ہر قسم کی خیر کی جامع ہو اور ہر شر سے بچا وے پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں ساری خیر جمع ہیں اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ میں سب شروں حتی کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی دعا ہے۔مغضوب سے بالا تفاق یہودی اور الضالین سے نصاری مراد ہیں اب اگر اس میں کوئی رمز اور حقیقت نہ تھی تو اس دُعا کی تعلیم سے کیا غرض تھی؟ اور پھر ایسی تاکید کہ اس دُعا کے بدوں نماز ہی نہیں ہوتی اور ہر رکعت میں اس کا پڑھا جانا ضروری قرار دیا بھید اس میں یہی تھا کہ یہ ہمارے زمانہ کی طرف ایما ہے۔اس وقت صراط مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مؤرخہ ۷ ارفروری ۱۹۰۱ صفحہ ۷ ) صراط مستقیم۔۔۔یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں (۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور فن کی آلائشوں سے پاک ہے (۲) دوسری سنت اور اس جگہ ہم اہل حدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں۔یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز۔سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم