تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 256

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ سورة الفاتحة الْمُرْسَلِينَ فَإِنَّ مَرَاتِ الرُّشْدِ وَالْهِدَايَةِ سکتیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا لا تَتِمُّ أَبَدًا بَلْ هِيَ إِلى غَيْرِ البَايَةِ وَ لا سکھائی اور اسے نماز کا مدار ٹھہرایا تا لوگ اس کی تَبْلُغُهَا أَنْظارُ الدّرَايَةِ فَلِذلِك عَلَّمَ الله ہدایت سے فائدہ اُٹھا ئیں اور اس کے ذریعہ توحید کو تَعَالَى هَذَا الدُّعَاءَ لِعِبَادِهِ وَ جَعَلَهُ مَدَارَ مکمل کریں اور ( خدا تعالیٰ کے ) وعدوں کو یادرکھیں الصَّلَاةِ لِيَتَمَتَّعُوا بِرَشَادِہ وَلِيَكْبِلَ النَّاسُ اور مشرکوں کے شرک سے نجات پاویں۔اس دُعا کے بِهِ التَّوْحِيد وَ لِيَذْكُرُوا الْمَوَاعِيدَ و کمالات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کے تمام لِيَسْتَخْلِصُوا مِنْ شِرْكِ الْمُشْرِكِينَ وَ مِن مراتب پر حاوی ہے اور ہر فرد پر بھی حاوی ہے۔وہ كَمَالَاتِ هَذَا الدُّعَاءِ أَنَّهُ يَعُمُّ كُلّ مَرَاتِبِ ایک غیر محدود دعا ہے جس کی کوئی حد بندی یا انتہاء النَّاسِ وَكُلَّ فَرْدٍ مِنْ أَفَرَادِ الْأُنَاسِ وَهُوَ نہیں اور نہ اس کی کوئی غایت یا کنارہ ہے۔پس دُعَاء غَيْرُ مَحْدُودٍ لَّا حَدَّ لَهُ وَلَا انْتِهَاءَ وَلَا مبارک ہیں وہ لوگ جو خدا کے عارف ہندوں کی طرح غَاىَ وَلَا أَرْجَاءَ فَطوبى لِلَّذِيْنَ يُدَاوِمُوْنَ اِس دُعا پر مداومت اختیار کرتے ہیں زخمی دلوں کے عَلَيْهِ بِقَلْبٍ دَافِي الْفُرْح وَ بِرُوچ صَابِرَةٍ عَلَى ساتھ جن سے خون بہتا ہے اور ایسی روحوں کے الْجُرْح وَ نَفْسٍ مُّطْمَئِنَّةٍ كَعِبَادِ اللہ ساتھ جو زخموں پر صبر کرنے والی ہوں اور نفوس الْعَارِفِينَ۔مُطْمَئِنّہ کے ساتھ۔وَإِنَّهُ دُعَاء تَضَمَّن كُلَّ خَيْرٍ وَسَلَامَةٍ یہ وہ دُعا ہے جو ہر خیر ،سلامتی ، پختگی اور استقامت وَسَدَادٍ وَاسْتِقَامَةٍ وَفِيْهِ بَهَارَاتٌ من الله پر مشتمل ہے اور اس دُعا میں رب العالمین کی طرف مِّنَ سے بڑی بشارتیں ہیں۔( ترجمہ از مرتب ) رَبِّ الْعَالَمِينَ کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۳۶ ، ۱۳۷ ) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - الرحمن کے بالمقابل ہے کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق تو نہیں ہے بلکہ محض رحمانیت الہی سے یہ فیض حاصل ہو سکتا ہے اور صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ الرَّحِيْمِ کے بالمقابل ہے کیونکہ اس کا ورد کرنے والا رحیمیت کے چشمہ سے فیض حاصل کرتا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اے رحم خاص سے دُعاؤں کے قبول کرنے والے ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں کی راہ ہم کو دکھا جنہوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے انواع و اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا