تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 255
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۵ سورة الفاتحة فَيَكُونُ النَّبِيُّ كَالأَصْلِ وَالْوَلِيُّ ہوں۔پس نبی اصل کی طرح ہوتا ہے اور ولی ظلّ کی طرح۔كَالظَّلِ مِنْ مَّرْتَبَتِهِ يَأْخُذُ وَمِنْ وہ اس کے مرتبہ سے (حصّہ ) لیتا ہے اور اُس کی روحانیت سے مرتبہ لیتا رُوحَانِيَّتِهِ يَسْتَفِيدُ حَتَّى يرتفع استفادہ کرتا ہے۔یہاں تک کہ اُن کے درمیان امتیاز اور مِنْهُمَا الامتيارُ وَالْغَيْرِيَّةُ وَتَردُ غیریت اُٹھ جاتے ہیں اور پہلے (اصل) کے احکام دوسرے أَحْكَامُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخِرِ وَيَصِيرَانِ ( ظل ) پر وارد ہو جاتے ہیں تب وہ دونوں اللہ اور ملاء اعلی كَشَينِي وَاحِدٍ عِنْدَ اللهِ وَعِنْدَ مَلاهِ کے نزدیک ایک شئی کی طرح ہو جاتے ہیں اور دوسرے پر الْأَعْلَى وَيَنْزِلُ عَلَى الْآخِرِ إِرَادَةُ الله و اللہ تعالیٰ کا ارادہ اور اللہ کا اُسے ایک جہت کی طرف پھرانا اور تَصْرِيفُهُ إِلَى جِهَةٍ وَأَمْرُهُ وَنَهيه بعد اس کا امر اور اُس کی نہی پہلے (اصل) کی روح پر عبور کرنے کے عُبُورِه عَلَى رُوحِ الْأَوَّلِ وَهُذَا سِر من بعد اُس دوسرے (ظل) پر اُترتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے أَسْرَارِ اللهِ تَعَالَى لَا يَفْهَمُهُ إِلَّا مَنْ كَانَ اسرار میں سے ایسا ستر ہے جس کو سوائے روحانی لوگوں کے اور کوئی نہیں سمجھتا۔( ترجمہ از مرتب) مِنَ الرُّوحَانِيّين کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۲۷) فَالْحَاصِلُ أَنَّ دُعَاءَ امی کا پس خلاصہ یہ ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا 66 القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ يُنْجِی انسان کو ہر بجی سے نجات دیتی ہے اور اُس پر دین قویم کو واضح الْإِنْسَانَ مِنْ كُلِّ أَوْدٍ وَيُظْهِرُ عَلَيْهِ کرتی ہے اور اُس کو ویران گھر سے نکال کر پھلوں اور خوشبوؤں الدِّيْنَ الْقَوِيْمَ وَ يُخْرِجُهُ مِن بَيْت بھرے باغات میں لے جاتی ہے۔اور جو شخص بھی اس دُعا قَفْرٍ إِلى رِيَاضِ القَمَرِ وَ الرَّيَاحِيْنِ وَ میں زیادہ آہ وزاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کو خیر و برکت مَنْ زَادَ فِيْهِ إِلْحَاحًا زَادَهُ اللهُ صَلَاحًا میں بڑھاتا ہے۔دُعا سے ہی نبیوں نے خدائے رحمان کی محبت والتَّبِيُّون أنَسُوا مِنْهُ أُنْسَ الرّحْمنِ حاصل کی اور اپنے آخری وقت تک ایک لحظہ کے لئے بھی دُعا کو فَمَا فَارَقُوا الدُّعَاءَ طَرْفَةَ عَيْنٍ إلى نہ چھوڑا اور کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس دُعا سے لا پرواہ آخِرِ الزَّمَانِ وَمَا كَانَ لِأَحَدٍ أَنْ يَكُونَ ہو، یا اس مقصد سے منہ پھیر لے خواہ وہ نبی ہو یا رسولوں میں غَنِيًّا عَنْ هَذِهِ الدَّعْوَةِ وَلَا مُعْرِضًا سے۔کیونکہ رُشد اور ہدایت کے مراتب کبھی ختم نہیں ہوتے عَنْ هَذِهِ الْمَنِيَّةِ نَبِيًّا أَوْ كَانَ مِن بلکہ وہ بے انتہاء ہیں اور عقل و دانش کی نگاہیں ان تک نہیں پہنچے