تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 254
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۴ سورة الفاتحة هُدَى الْمُهْتَدِينَ وَتَّبِعَ سُنَنَ الْعَامِلِينَ اور کامل لوگوں کے طریقوں کا متبع ہو اور ہدایت یافتہ لوگوں وَ تَأَهَبَ لِلْإِنْصِباغ يصبعُ الْمَهْدِنِین کے رنگ سے رنگین ہونے کے لئے تیار ہو اور اپنے تمام وَعَطَفَ إِلَيْهِمُ يُجَمِيعِ إِرَادَتِهِ وَقُوتِه ارادوں اور قوت اور دل سے اُن کی طرف مائل ہو اور وَجَنَانِهِ وَأَذَى شَرْطَ السُّلُوكِ بحسب حتی الامکان سلوک کے شرائط ادا کرے اور اپنے اقوال کو إمْكَانِهِ وَشَفَعَ الْأَقْوَالَ بالاعتمال اعمال سے اور قال کو حال سے مطابق کرے اور ان لوگوں وَالْمَقَالَ بِالْحَالِ وَدَخَلَ فِي الَّذِينَ میں داخل ہو جائے جو خدائے قادر ذوالجلال کی طرف سے يَتَعَاطَوْنَ كَأْسَ الْمَحَبَّةِ لِلْقَادِرِ ذی محبت کا پیالہ لیتے ہیں اور ذکر اللہ کے چقماق سے تضرع اور الْجَلالِ وَيَفْتَدِحُونَ زَنَادَ ذِكْرِ الله عاجزی کے ذریعہ روشنی حاصل کرتے ہیں اور رونے والوں بالقصرع والابيهال وَيَبْكُونَ مَعَ کے ساتھ روتے ہیں تب (بندہ کے اس مقام پر پہنچنے پر ) بِالتَضَرُّعِ وَالْابْتِهَالِ الْبَاكِينَ فَهُنَالِكَ يَفُورُ بَحْرُ رَحْمَةِ الله اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سمندر جوش مارتا ہے تا اُس شخص کو تمام لِيُظْهِرَهُ مِنَ الْأَوْسَاحُ وَالْأَخْرَانِ قسم کی روحانی میل کچیل سے پاک کرے اور تا اُسے وَلِتُرْوِيَة بإفَاضَةِ القَتَانِ ثُمَّ يَأْخُذُ موسلا دھار (روحانی) بارش کے فیضان سے سیراب کرے۔يَدَةَ وَيُرْقِيهِ إِلى أَعْلى مراتب الانتقاء پھر وہ اُس کی دستگیری کرتا ہے اور اُسے ارتقاء اور عرفان کے وَالْعِرْفَانِ وَيُدْخِلُهُ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ اعلیٰ مراتب پر پہنچاتا ہے اور اُس کو اُن لوگوں میں داخل کر قَبْلِهِ مِنَ الفُلَحَاءِ وَالْأَوْلِيَاء وَالرُّسُلِ دیتا ہے جو صالحین ، اولیاء ، رسولوں اور نبیوں میں سے اُس وَالنَّبِيِّينَ فَيُعْطَى كَمَالاً كَمِغل سے پہلے گزر چکے ہیں۔پس اُسے اُن کے کمالات کی طرح كَمَالِهِمْ وَجَمَالًا كَمِثْلِ جَمَالِهِمْ کمال اور اُن کے جمال کی طرح جمال اور اُن کے جلال کی وَجَلَالًا كَمِثْلِ جَلَالِهِمْ طرح جلال عطا کیا جاتا ہے۔وَ قُلْ يَقْتَدِى الزَّمَانُ وَالْمَصْلَحَةُ اور کبھی زمانہ اور مصلحت اس امر کی مقتضی ہوتی ہے کہ ایسا أَنْ يُرْسَلَ هَذَا الرَّجُلُ عَلَى قَدَمٍ نَبِي شخص ایک خاص نبی کے قدم پر بھیجا جائے پھر ا سے اُس نبی خَاضٍ فَيُعْطى لَهُ عِلْمًا كَعِلْبِهِ وَعَقلاً کا سا علم، اور اُس کی عقل کی سی عقل ، اور اس کے نور کا سانور، كَعَقْلِهِ وَنُورًا كَنُورِهِ وَاسْما کاشمہ اور اُس کے نام کا سا نام دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُن دونوں وَيَجْعَلُ اللهُ أَرْوَاحَهُمَا كَمَرَايَا مُتَقَابَلَةٍ کی روحوں کو اُن آئینوں کی طرح بنا دیتا ہے جو آمنے سامنے