تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 248
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وو ۲۴۸ سورة الفاتحة مِنَ الْخطَا وَإِنِ اهْتَدَتْ إِلَيْهَا أَبَابِیلُ | اگر چہ بظاہر قدموں کی کثرت نے اُسے بالکل ہموار کر دیا ہو مِنَ الْقَطَا فَإِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی اور اگرچہ بھٹ تیتر پرندوں کی قطاروں کی قطار میں اُس کی وَإِنَّ الْقُرْآن شَهِدَ عَلى مَوْتِ الْمَسِيحَ طرف گئی ہوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہدایت ہی (اصل) وَ أَدْخَلَهُ فِي الْأَمْوَاتِ بِالْبَيَانِ الطَّرِيحِ ہدایت ہے اور قرآنِ کریم نے مسیح کی موت پر شہادت دی مَا لَكَ مَا تُفَكَّرُ في قَوْلِهِ فَلَمَّا ہے اور واضح بیان میں اسے مردوں میں داخل قرار دیا مَا تَوَفَّيْتَنِي " وَلَى قَوْلِهِ قَدْ خَلَتْ مِنْ ہے تمہیں کیا ہو گیا) ہے کہ تم خدا کے الفاظ فلما توفیتنی قَبْلِهِ الرُّسُلُ " وَمَا لَك لا تختار اور پھر اُس کے قول قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ میں غور سَبِيلَ الْفُرْقَانِ وَسَرَّكَ السُّبُلُ نہیں کرتے اور تمہیں کیا ( ہو گیا ) ہے کہ تم قرآن کریم کے وَقَد قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَ فيها راستہ کو اختیار نہیں کرتے اور دوسرے راستے تمہیں بھلے لگتے تَمُوتُونَ ، فَمَا لَكُمْ لَا تُفَكَّرُونَ ہیں اور اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا وَقَالَ لَكُمْ فِيْهَا مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى تَمُوتُونَ پس تم کیوں نہیں سوچتے ؟ پھر اللہ تعالی نے فرمایا حِيْنٍ فَكَيْفَ صَارَ مُسْتَقَرُّ عِیسٰی فِی ہے کہ تمہارے لئے ایک مقررہ وقت تک اسی زمین میں السَّمَاءِ أَوْ عَرْشَ رَبّ الْعَالَمِينَ إِن جائے رہائش اور سامان معیشت مقدر ہے۔پھر کیونکر حضرت هَذَا إِلَّا كَذِبٌ مُّبِينٌ۔وَ قَالَ سُبْحَانَهُ عیسی کا ٹھکانہ آسمان میں یا عرش رب العالمین پر ہو گیا۔یہ تو آمَوَاتٌ غَيْرُ احياء " " فَكَيْفَ ایک واضح جھوٹ ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے آمُوَاتٌ غَيْرُ تَحْسَبُونَ عِيسَى مِنَ الْأَحْيَاءِ الحَيَاء احياء فرمایا ہے پھر حضرت عیسی کو کس طرح زندہ خیال الْحَيَاءَ يَا عِبَادَ الرَّحْمنِ الْقُرْآن کرتے ہو؟ اے بندگانِ خدا! باز آؤ باز آؤ۔قرآن کو الْقُرْآنَ فَاتَّقُوا اللهَ وَلَا تَتْرُكُوا (لازم پکڑو ) قرآن کو لازم پکڑو ) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو الْفُرْقَانَ إِنَّهُ كِتَابٌ يُسْأَلُ عَنْهُ اور قرآن کو مت چھوڑو۔یہ ایسی کتاب ہے جس کے متعلق إِنْسٌ وَجَانٌ وَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ انسانوں اور جنوں (سب سے ) باز پرس ہوگی اور تم نماز الفاتحة في الصَّلَاةِ۔فَفَكِّرُوا فِيهَا میں سورۃ فاتحہ پڑھتے ہو۔پس اے عظمند و! اس میں خوب يَا ذوى الحَصاة۔غور کرو۔( المائدة : ۱۸۸) ترجمہ: جب تو نے میری روح قبض کرلی۔۲ (ال عمران: ۱۴۵) ترجمہ : اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔(الاعراف: ۲۶) ترجمہ: اسی میں تم زندہ رہو گے اور اسی میں تم مرو گے۔۴۔(النحل : ۲۲) ترجمہ: وہ سب مُردے ہیں نہ کہ زندہ۔