تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 247
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة الفاتحة أَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ مِنَ الْأَحْيَاء بَلْ مِن | خیال کرتے ہو اور ابن مریم کے متعلق تمہارا عقیدہ ہے کہ وو 66 الْمُحْيِينَ أَنْظُرُ إِلَى النُّوْرِ " ثُمَّ انظر وہ زندوں بلکہ دوسروں کو ) زندہ کرنے والوں میں سے إلَى الْفَاتِحَةِ " ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ لِيَرْجِعَ ہے۔تم سورۃ نور کو دیکھو اور پھر سورۃ فاتحہ پر غور کرو۔پھر الْبَصَرُ بِالدَّلَائِلِ الْقَاطِعَةِ۔أَلَسْتَ تَقْرَأُ نظر دوڑاؤ تا وہ دلائل قاطعہ لے کر آئے۔کیا تم اس صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" في هذه سورت میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (کے الفاظ ) السُّورَةِ۔فَأَنى تُؤفَكَ بَعْدَ هَذَا أَتنسى نہیں پڑھتے تو پھر اس کے بعد تم کدھر بہک رہے ہو؟ کیا دُعَاءَكَ أَوْ تَقْرَأُ بِالْغَفْلَةِ۔فَإِنَّكَ سَأَلْتَ تم اپنی دُعا کو بھول جاتے ہو؟ یا اس کو غفلت کی حالت میں عَن ربك في هذا الدُّعَاءِ وَالْمَسْأَلَةِ۔أَنْ لَا پڑھتے ہو؟ تم نے تو اس دُعا اور التجاء میں اللہ تعالیٰ سے یہ يُغَادِرَ نَبِيًّا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا وَيَبْعَثَ مانگا تھا کہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایسا کوئی نبی نہ مَثِيْلَهُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَيْحَكَ أَنَسِيتَ رہنے دے مگر اُس کا مثیل اِس اُمت میں مبعوث دُعاء ك بهذه الشرعَةِ مَعَ أَنَّكَ تَفْرَأه في فرمائے۔تم پر افسوس ! کیا تم نے اپنی دُعا کو اتنی جلدی بھلا الْأَوْقَاتِ الْخَمْسَةِ عجبت منك كُلّ دیا۔باوجود اس کے کہ تم پانچ وقت یہ دعا پڑھتے ہو۔مجھے الْعَجَبِ أَهْذَا دُعَاؤُكَ وَ تِلْكَ ار آؤ تو تم پر انتہائی تعجب ہے کہ یہ تمہاری دُعا ہے اور یہ تمہارے أنْظُرْ إِلَى الْفَاتِحَةِ وَانْظُرُ إِلى سُورَةِ التَّوْرِ خیالات ہیں۔ذرا ( سورۃ ) فاتحہ کی طرف دیکھو اور پھر مِنَ الْفُرْقَانِ وَ أَى شَاهِدٍ يُقْبَلُ بَعْدَ فرقانِ مجید کی سورۃ نور پر بھی غور کرو۔قرآن کی شہادت شَهَادَةِ الْقُرْآنِ۔فَلَا تَكُنْ كَالَّذِی سری کے بعد اور کسی گواہ ( کی گواہی قبول کی جائے گی۔تم إِيجَاسَ خَوْفِ الله وَاسْتَشْعَارَهُ وَ اُس شخص کی طرح مت بنو جس نے خدا کے خوف کا ظاہری تَسَرْبَل لِبَاسَ الْوَقَاحَةِ وَشِعَارَهُ اور باطنی احساس ترک کر دیا بلکہ بے حیائی کو اپنا لباس اور أَنثرُكَ كِتَابَ اللهِ لِقَوْمٍ تَرَكُوا الطريق اپنا شعار بنا لیا ہو۔کیا تم اُن لوگوں کی خاطر اللہ تعالیٰ کی وَمَا كَتَلُوا التَّحْقِيق وَ التَّعْمِيق۔وَإِنَّ کتاب کو چھوڑ دو گے جنہوں نے سیدھا راستہ ترک کر دیا طَرِيقَهُمْ لَا يُؤْصِلُ إِلَى الْمَطْلُوبِ وَقَدْ اور اپنی تحقیق اور غور وفکر کو مکمل نہ کیا۔ان کا راستہ مطلوب خَالَفَ التَّوْحِيْدَ وَسُبُلَ اللهِ الْمَحْبُوبِ تک نہیں پہنچاتا بلکہ وہ توحید اور خدائے محبوب کی راہوں فَلَا تَحْسَبُ وَغَرًا دَمِنًا وَ إِن دَفَعَهُ كَثِیر کے خلاف ہے۔پس تو سخت (راستہ) کو نرم خیال نہ کر۔