تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 232

وو تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 66 ۲۳۲ سورة الفاتحة اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ | الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔کی دُعا سکھائی ہے۔اور یہ الضَّالِينَ وَ مَعْلُوهُ أَنَّ مِن بات واضح ہے کہ ہدایت کی اقسام میں کشف، الہام، أَنْوَاعِ الْهِدَايَةِ كَفَفْ وَ الْهَامُ وَرُؤْيَا رویائے صالحہ، مکالمات و مخاطبات اور محمد حمیت شامل ہیں صَالِحَةٌ و مُعَالَمَاتٌ وَمُخاطبات تاکہ ان کے ذریعہ قرآن کریم کے اسرار کھلیں اور یقین وَتَحْدِيث لِيَنكَشِفَ بِهَا غَوَامِضُ بڑھے۔ان آسمانی فیوض کے سوا انعام کے اور کوئی معنے نہیں۔الْقُرْآنِ وَيَزْدَادَ الْيَقِينُ، بَلْ لَّا مَعْنی کیونکہ یہ چیزیں اُن سالکوں کا اصل مقصد ہیں جو چاہتے ہیں لِلإنْعَامِ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفُيُوضِ کہ اُن پر معرفتِ الہی کے دقائق کھلیں اور وہ اپنے رب کو السَّمَاوِيَّةِ، فَإِنَّهَا أَصْلُ الْمَقَاصِدِ اِسی دنیا میں پہچان لیں۔محبت اور ایمان میں ترقی کریں لِلسَّالِكِينَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَن اور دنیا سے منہ موڑ کر اپنے محبوب کا وصال حاصل کر لیں۔تَنْكَشِفَ عَلَيْهِمْ دَقَائِقُ الْمَعْرِفَةِ، اِس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات کی ترغیب وَيَعْرِفُوا رَبَّهُم في هذه الدُّنْيَا۔دلائی ہے کہ وہ اس کی بارگاہ سے یہ انعام طلب کیا کریں وَيَزْدَادُوا حُنَّا وَ إِيْمَانًا وَيَصِلُوا کیونکہ وہ (اللہ) ان کے دلوں میں وصال اور یقین اور مَحْبُوبَهُم مُّتَبَتِلِينَ فَلِأُجْلِ ذلِك معرفت کے حصول کی جو پیاس ہے اُسے خوب جانتا ہے پس حَقَّ اللهُ عِبَادَهُ عَلى أَن يَطْلُبُوا هَذَا اُس نے ان پر رحم کیا اور اپنے طالبوں کے لئے ہر قسم کی الْإِنْعَامَ مِنْ حَضْرَتِهِ ، فَإِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا معرفت تیار کی۔پھر ان ( طالبوں ) کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام يما في قُلُوبِهِمْ مِنْ عَطش الوِصالِ وَ اور رات اور دن معرفت طلب کرتے رہیں اور اُس نے الْيَقِينِ وَ الْمَعْرِفَةِ، فَرَحِمَهُمْ وَأَعَدَّ كُل انہیں یہ حکم بھی دیا جب وہ خود ان نعمتوں کے عطا کرنے پر مَعْرِفَةٍ لِلطَّالِبِينَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ راضی تھا۔بلکہ اس بات کا فیصلہ کر لیا تھا کہ انہیں ان لِيَطْلُبُوهَا فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ (نعمتوں) میں سے ( کچھ حصہ ضرور ) دیا جائے گا اور انہیں وَاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمَا أَمَرَهُمْ إِلَّا ان نبیوں کا وارث بنانا مقدر کیا جنہیں ان سے پہلے براہِ بَعْدَمَا رَضِيَ بِإِعْطَاءِ هَذِهِ النَّعْمَاء بَلْ راست ہدایت کی ہر نعمت دی گئی تھی۔پس دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ بَعْدَمَا قَدَّرَ لَهُمْ أَن يُرْزَقُوا مِنْهَا، وَ نے ہم پر کتنا احسان کیا ہے اور ہمیں ام الکتاب (یعنی سورة بَعْدَمَا جَعَلَهُمْ وَرَشَاءَ الْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ | فاتحہ ) میں حکم دیا ہے کہ ہم اس سورۃ میں انبیاء کی تمام