تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 227

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۷ سورة الفاتحة بسا اوقات ہمارے دوستوں کو عیسائیوں سے واسطہ پڑے گا۔وہ دیکھیں گے کہ کوئی بھی بات نادانوں میں ایسی نہیں جو حکیم خدا کی طرف منسوب ہو سکے۔حکمت کے معنے کیا ہیں؟ وَضْعُ الشَّيْءٍ فِي مَحَلَّه۔مگر ان میں دیکھو گے کہ کوئی فعل اور حکم بھی اس کا مصداق نظر نہیں آتا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پر جب ہم پر غور نظر کرتے ہیں تو اشارۃ النص کے طور پر پتہ لگتا ہے کہ بظاہر تو اس سے دُعا کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے کہ صراط المستقیم کی ہدایت مانگنے کی تعلیم ہے۔لیکن اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اُس کے سر پر بتلا رہا ہے کہ اُس سے فائدہ اُٹھاویں۔یعنی راہ راست کے منازل کے لئے قوائے سلیم سے کام لے کر استعانت الہی کو مانگنا چاہئے۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ ء صفحه ۱۵۱،۱۵۰) جب انسان ايَّاكَ نَعْبُدُ کہہ کر صدق اور وفاداری کے ساتھ قدم اُٹھاتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک بڑی نہر صدق کی کھول دیتا ہے جو اس کے قلب پر آ کر گرتی ہے اور اسے صدق سے بھر دیتی ہے وہ اپنی طرف سے بضاعة مزجاة لاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کی گراں قدر جنس اس کو عطا کرتا ہے۔اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس مقام میں انسان یہاں تک قدم مارے کہ وہ صدق اس کے لئے ایک خارق عادت نشان ہو۔اس پر اس قدر معارف اور حقائق کا دریا کھلتا ہے اور ایسی قوت دی جاتی ہے کہ ہر شخص کی طاقت نہیں ہے کہ اس کا مقابلہ کرے۔الخام جلد 4 نمبر ۷ مؤرخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۵ صفحه ۲) صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے دور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا نہ جھوٹی گواہی دوں گا۔اور جذ بہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹی کلام نہ کروں گا۔نہ لغو طور پر نہ کسب خیر کے لئے نہ دفع شر کے لئے یعنی کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا۔جب اس حد تک وعدہ کرتا ہے تو گویا ايَّاكَ نَعْبُدُ پر وہ ایک خاص عمل کرتا ہے اور وہ عمل اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ سے آگے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہے۔خواہ یہ اس کے منہ سے نکلے یا نہ نکلے لیکن اللہ تعالیٰ جو مبدء الفیوض اور صدق اور راستی کا چشمہ ہے اس کو ضرور مدد دے گا اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دے گا۔احکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مؤرخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۵) جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کئے ہیں الْحَيُّ اور الْقَيُّوم - الْحَقُّ کے معنے ہیں خود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطا کرنے والا۔القیوم خود قائم اور دوسروں کے قیام کا اصلی باعث۔ہر ایک چیز