تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 226
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة الفاتحة کرتے ہیں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے مفہوم سے دور جا پڑتے ہیں۔اس پر عمل نہیں کرتے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا ظہور چاہتے ہیں۔یہ مناسب نہیں جہاں تک ممکن اور طاقت ہو رعایت اسباب کرے لیکن ان اسباب کو اپنا معبود اور مشکل کشا قرار نہ دے بلکہ کام لے کر پھر تفویض الی اللہ کرے اور اس بات پر سجدات شکر بجالائے کہ اسی خدا نے وہ قومی اور طاقتیں اس کو عطا فرمائی ہیں۔( الحکم جلد 4 نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ ۱۷ پریل ۱۹۰۵ صفحه ۵) اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے یہی معنے ہیں کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اُن ظاہری سامانوں اور اسباب کی رعایت سے جو تو نے عطا کئے ہیں۔دیکھو ! یہ زبان جو عروق اور اعصاب سے خلق کی ہے اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم بول نہ سکتے۔ایسی زبان دُعا کے واسطے عطا کی جو قلب کے خیالات تک کو ظاہر کر سکے اگر ہم دُعا کا کام زبان سے بھی نہ لیں تو یہ ہماری شور بختی ہے۔بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جاویں تو یک دفعہ ہی زبان اپنا کام چھوڑ بیٹھتی ہے یہاں تک کہ انسان گونگا ہو جاتا ہے پس یہ کیسی رحیمیت ہے کہ ہم کو زبان دے رکھی ہے۔ایسا ہی کانوں کی بناوٹ میں فرق آجاوے تو خاک بھی سنائی نہ دے۔ایسا ہی قلب کا حال ہے وہ جو خشوع و خضوع کی حالت رکھی ہے۔اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں رکھی ہیں۔اگر بیماری آجاوے تو وہ سب قریباً بریکار ہو جاتی ہیں۔مجنونوں کو دیکھو کہ اُن کے قومی کیسے بیکار ہو جاتے ہیں تو پس کیا یہ ہم کو لازم نہیں کہ ان خداداد نعمتوں کی قدر کریں؟ اگر ان قومی کو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال فضل سے ہم کو عطا کئے ہیں بریکار چھوڑ دیں تو لاریب ہم کا فرنعمت ہیں۔پس یا درکھو کہ اگر اپنی قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دُعا کرتے ہیں تو یہ دُعا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ جب ہم نے پہلے عطیہ ہی سے کچھ کام نہیں لیا تو دوسرے کو کب اپنے لئے مفید اور کارآمد بنا سکیں گے؟ پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ یہ بتلا رہا ہے کہ اے رب العالمین ! تیرے پہلے عطیہ کو بھی ہم نے بیکار اور برباد نہیں کیا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ انسان خدائے تعالیٰ سے سچی بصیرت مانگے کیونکہ اگر اس کا فضل اور کرم دستگیری نہ کرے تو عاجز انسان ایسی تاریکی اور اندھکر میں پھنسا ہوا ہے کہ وہ دُعا ہی نہیں کر سکتا۔پس جب تک انسان خدا کے اُس فضل کو جو رحمانیت کے فیضان سے اُسے پہنچا ہے کام میں لا کر دُعانہ مانگے کوئی نتیجہ بہتر نہیں نکال سکتا۔میں نے عرصہ ہوا انگریزی قانون میں یہ دیکھا تھا کہ تقاوی کے لئے پہلے کچھ سامان دکھانا ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح سے قانونِ قدرت کی طرف دیکھو کہ جو کچھ ہم کو پہلے ملا ہے اُس سے کیا بنایا ؟ اگر عقل و ہوش آنکھ کان رکھتے ہوئے نہیں بہکے ہو اور حمق اور دیوانگی کی طرف نہیں گئے تو دُعا کرو۔اور بھی فیض الہی ملے گا ور نہ محرومی اور بدقسمتی کے لچھن ہیں۔