تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 225
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ سورة الفاتحة دو سے مدد چاہتا ہے ایسا ما شخص کامیابی کا منہ کس طرح دیکھے گا۔(البدرجلد ۳ نمبر ۹ مؤرخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) مومن۔۔۔۔۔تد بیر اور دعا دونوں سے کام لیتا ہے۔پوری تدبیر کرتا ہے اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑ کر دُعا کرتا ہے اور یہی تعلیم قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ میں دی گئی ہے چنانچہ فرمایا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَستَعینُ جو شخص اپنے قومی سے کام نہیں لیتا ہے وہ نہ صرف اپنے قومی کو ضائع کرتا اور ان کی بے حرمتی کرتا ہے بلکہ وہ گناہ کرتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر۷ مؤرخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) قرآن شریف میں جو بڑے بڑے وعدے متقیوں کے ساتھ ہیں وہ ایسے متقیوں کا ذکر ہے جنہوں نے تقوی کو وہاں تک نبھا یا جہاں تک اُن کی طاقت تھی۔بشریت کے قومی نے جہاں تک اُن کا ساتھ دیا برابر تقویٰ پر قائم رہے حتی کہ اُن کی طاقتیں ہار گئیں اور پھر خدا سے انہوں نے اور طاقت طلب کی جیسے کہ اياك نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے ظاہر ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی اپنی طاقت تک تو ہم نے کام کیا اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی آگے چلنے کے لئے اور نئی طاقت تجھ سے طلب کرتے ہیں۔الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مؤرخہ ۱۰ر جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۱۰) انسان میں نیکی کا خیال ضرور ہے۔پس اس خیال کے واسطے اس کو امداد الہی کی بہت ضرورت ہے۔اسی لئے پنج وقتہ نماز میں سورہ فاتحہ کے پڑھنے کا حکم دیا۔اُس میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ فرمایا۔اور پھر إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی عبادت بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے یعنی ہر نیک کام میں قومی ، تدابیر، جد و جہد سے کام لیں یہ اشارہ ہے تعبد کی طرف۔کیونکہ جو شخص نری دُعا کرتا ہے اور جدو جہد نہیں کرتا وہ بہر یاب نہیں ہوتا جیسے کسان بیج بو کر اگر جد و جہد نہ کرے تو پھل کا امیدوار کیسے بن سکتا ہے؟ اور یہ سنت اللہ ہے اگر بیج بو کر صرف دُعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مؤرخہ ۱۰ تا۱۷ارنومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۶) جولوگ اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھے رہنے کا نام خدا پر بھروسہ ہے اسباب سے کام لینا اور خدا تعالیٰ کے پہ عطا کردہ قومی کو کام میں لگانا یہ بھی خدا تعالیٰ کی قدر ہے جو لوگ ان قومی سے کام نہیں لیتے اور منہ سے کہتے ہیں کہ ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں وہ بھی جھوٹے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی قدر نہیں کرتے خدا تعالیٰ کو آزماتے ہیں۔اور اس کی عطا کی ہوئی قوتوں اور طاقتوں کو لغو قرار دیتے ہیں اور اس طرح پر اس کے حضور شوخی اور گستاخی