تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 224
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۴ سورة الفاتحة کام ہمیشہ کے لئے ہے۔اسی لئے دائگی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے۔پس استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے کرتے رہنے کی طرف اشارہ سورۃ فاتحہ کی دو اس آیت میں ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔عصمت انبیاء علیہم السلام۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۷۲ ) دیکھو اللہ تعالیٰ نے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی تعلیم دی ہے۔اب ممکن تھا کہ انسان اپنی قوت پر بھروسہ کر لیتا اور خدا سے دور ہو جاتا۔اس لئے ساتھ ہی اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی تعلیم دیدی کہ یہ مت سمجھو کہ یہ عبادت جو میں کرتا ہوں اپنی قوت اور طاقت سے کرتا ہوں ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی استعانت جب تک نہ ہو اور خود وہ پاک ذات جب تک توفیق اور طاقت نہ دے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔اور پھر ایاكَ أَعْبُدُ یا ايَّاكَ أَسْتَعِينُ نہیں کہا اس لئے کہ اس میں نفس کے تقدم کی بو آتی تھی۔اور یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔تقومی والا کل انسانوں کو لیتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۱ مؤرخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۴) جو شخص دُعا اور کوشش سے مانگتا ہے وہ متقی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یا د رکھو کہ جو شخص پوری فہم اور عقل اور زور سے تلاش نہیں کرتا وہ خدا کے نزدیک ڈھونڈنے والا نہیں قرار پاتا اور اس طرح سے امتحان کرنے والا ہمیشہ محروم رہتا ہے لیکن اگر وہ کوششوں کے ساتھ دُعا بھی کرتا ہے اور پھر اُسے کوئی لغزش ہوتی ہے تو خدا اُسے بچاتا ہے اور جو آسانی تن کے ساتھ دروازہ پر آتا ہے اور امتحان لیتا ہے تو خدا کو اس کی پرواہ نہیں ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مؤرخہ ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸۴) دو اس سے بڑھ کر کوئی نعمت انسان کے لئے نہیں ہے کہ اُسے گناہ سے نفرت ہو اور خدا تعالیٰ خود اُسے معاصی سے بچا لیوے مگر یہ بات نری تدبیر یا نری دُعا سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ دونوں سے مل کر حاصل ہوگی جیسے کہ خدا تعالیٰ نے تعلیم دی ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ جس کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ قوی خدا تعالیٰ نے انسان کو عطا کئے ہیں اُن سے پورا کام لے کر پھر وہ انجام کو خدا کے سپر د کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ جہاں تک تو نے مجھے توفیق عطا کی تھی اس حد تک تو میں نے اس سے کام لے لیا یہ ايَّاكَ نَعْبُدُ دو وو کے معنے ہیں اور پھر ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہ کر خدا سے امداد چاہتا ہے کہ باقی مرحلوں کے لئے میں تجھ سے استمداد طلب کرتا ہوں۔وہ بہت نادان ہے جو کہ خدا کے عطا کئے ہوئے قومی سے تو کام نہیں لیتا اور صرف دعا