تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 223
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ سورة الفاتحة الْهَفَوَاتِ وَ تَعِيْشَ تَقِيًّا نَقِيًّا سَلِيم نفس ہو کر پرہیز گاروں والی صاف اور پاکیزہ زندگی القَلبِ طيب الذَّاتِ وَوَفِيًّا صَفِيًّا ملاها گزارو۔اور تم بُری عادتوں سے پاک ہو کر باوفا اور باصفا عَنْ ذَمَائِمِ الْعَادَاتِ وَأَنْ تَكُونَ وُجُودًا زندگی بسر کرو۔اور یہ کہ خلق اللہ کے لئے بلا تکلف و تصنع نافِعًا لِخَلْقِ اللهِ بِخَاطِيَّةِ الْفِطْرَةِ بعض نباتات کی مانند نفع رساں وجود بن جاؤ۔اور یہ کہ تم تبَعْضِ التَّبَاتَاتِ مِنْ غَيْرِ التَّكَلُفَاتِ اپنے کبر سے اپنے کسی چھوٹے بھائی کو دکھ نہ دو۔اور نہ وَالتَّصَتُعَاتِ وَأَن لَّا تُؤْذِى أَخَيَّك بكير کسی بات سے اس (کے دل) کو زخمی کرو۔بلکہ تم پر مِنْكَ وَلَا تَجْرَحَهُ بِكَلِمَةٍ مِّنَ الْكَلِمَاتِ بَل واجب ہے کہ اپنے ناراض بھائی کو خاکساری سے عَلَيْكَ أَن تُجيب الْآخَ الْمُغْضَبَ بِتَوَاضُع جواب دو اور اسے مخاطب کرنے میں اس کی تحقیر نہ کرو وَلَا تُحَقِّرَهُ فِي الْمُخَاطَبَاتِ وَتَمُوتَ قَبْلَ اور مرنے سے پہلے مرجاؤ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار أَن تَمُوْتَ وَتَحْسِبَ نَفْسَكَ مِنَ الْأَمْوَاتِ کرلو اور جو کوئی ( ملنے کے لئے ) تمہارے پاس آئے وَتُعَظمَ كُلَّ مَنْ جَاءَكَ وَلَوْ جَاءَكَ في اس کی عزت کرو خواہ وہ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ہو نہ کہ الأحمار لا في الْخَللِ وَالْكِسَوَاتِ وَتُسَلَّمَ نے جوڑوں اور عمد و لباس میں۔اور تم ہر شخص کو السلام علیکم عَلى مَنْ تَعْرِفُهُ وَ عَلى مَنْ لَّا تَعْرِفُهُ وَ کہو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو۔اور (لوگوں کی غم خواری کے لئے ہر دم تیار کھڑے رہو۔تَقُومُ مُتَصَدِيَّا لِلْمُوَاسَاتِ۔اعجاز اسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۶۵ تا ۱۶۹) دو (ترجمه از مرتب) فرماتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی یہ دعا کرو کہ ہم تیری پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ان تمام ہاتوں میں مدد چاہتے ہیں سو یہ تمام اشارے نیستی اور تذلیل کی طرف ہیں۔تا انسان اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۱۲) ہر یک کام دینی ہو یا دنیوی اُس میں استمداد سے پہلے اپنی خدا داد طاقت اور ہمت کا خرچ کرنا ضروری ہے اور پھر اس فعل کی تکمیل کے لئے مددطلب کرنا۔خدا نے ہم کو ہماری ہر روزہ عبادت میں بھی یہی تعلیم دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہیں نہ یہ کہ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ وَ إِيَّاكَ نَعْبُدُ (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۳۸،۱۳۷) انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیوم کو، تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے۔سودہ خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا