تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 222

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 66 66 وو ۲۲۲ سورة الفاتحة مَالِكًا هَذَا الْمَعْلُوكَ ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ اللهَ | دیتا ہے اور اس مملوک بندہ کو مالک بنادیتا ہے۔نیز سمجھ لیجئے حَمد ذَاتَه أَولا في قَوْلِهِ الحَمدُ للورت کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے الفاظ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الْعَلَمِيْنَ ثُمَّ حَقَّ النّاسَ عَلَی میں اپنی حمد بیان فرمائی۔پھر اپنے کلام إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ الْعِبَادَةِ بِقَوْلِهِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں لوگوں کو عبادت کی ترغیب دی۔پس نَسْتَعِينُ۔فَفِي هَذِهِ إِشَارَةٌ إِلى أَن اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ در حقیقت عبادت الْعَابِدَ فِي الْحَقِيقَةِ۔هُوَ الذي يَحْمَدُه گزاروہی ہے جو خدا تعالیٰ کی حمد اس طور پر کرے جو حد کے حَتَّى الْمَحْمَدَةِ فَحَاصِل هَذَا الدُّعَاءِ کرنے کا حق ہے۔پس اس دُعا اور درخواست کا ماحصل یہ وَالْمَسْأَلَةِ أَنْ تَجْعَلَ اللهُ أَحْمَدَ كُلّ مَنْ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو احمد بنا دیتا ہے جو(اس تَصَلَّى لِلْعِبَادَةِ۔وَعَلى هَذَا كَانَ مِن کی عبادت میں لگا ر ہے اس بنا پر ضروری تھا کہ اس اُمت الْوَاجِبَاتِ أَنْ يَكُونَ أَحْمَدُ في اخر هذہ کے آخر میں بھی کوئی احمد ظاہر ہو اس پہلے احمد کے نقش قدم پر الْأُمَّةِ عَلى قَدّمِ أَحْمَدَ الأَولِ الَّذينى جو سرور کائنات ( حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تا معلوم هُوَ سَيْدُ الكَاتِنَاتِ لِيُفْهَمَ اُن ہو جائے کہ دُعاؤں کو قبول فرمانے والی بارگاہ سے اس دُعا الدُّعَاءَ اسْتَجِيْبَ مِنْ حَضْرَةِ فاتحہ کو قبولیت کا شرف حاصل ہے اور تا کہ اس (احمد) کا مُسْتَجِيْبِ الدَّعَوَاتِ۔وَلِيَكُونَ ظُهُورُهُ ظہور قبولیت دعا کے لئے بطور نشانات کے ہو۔یہی وہ مسیح لِلْإِسْتِجَابَةِ كَالْعَلَامَاتِ فَهَذَا هُوَ ہے جس کا آخری زمانہ میں ظہور کا وعدہ سورۃ فاتحہ میں بھی الْمَسِيحُ الَّذِي كَانَ وَعْدُ ظُهُورِها في اخر اور قرآن کریم میں بھی لکھا ہوا ہے۔پھر اس آیت میں یہ الزَّمَانِ مَكْتُوبًا فِي الْفَاتِحَةِ وَفِي الْقُرْآنِ۔اشارہ بھی ہے کہ کسی بندہ کے لئے ممکن نہیں کہ اس وحدہ ثُمَّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ إشَارَةٌ إِلى أَنَّ الْعَبْدَلًا لاشریک کی بارگاہ سے توفیق پانے کے بغیر عبادت کا حق ادا يُمْكِنُهُ الْإِنْيَانُ بِالْعُبُودِيَّةِ إِلَّا بِتَوْفِيقِ کرے اور عبادت کی فروع میں یہ بھی ہے کہ تم اس شخص مِنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ وَ مِنْ فُرُوعِ سے بھی جو تم سے دشمنی رکھتا ہو ایسی ہی محبت کرو جس طرح الْعِبَادَةِ أَنْ تُحِبَّ مَنْ يُعَادِيكَ كَمَا اپنے آپ سے اور اپنے بیٹوں سے کرتے ہو اور یہ کہ تم تُحِبُّ نَفْسَكَ وَ بَنِيكَ وَأَنْ تَكُونَ دوسروں کی لغزشوں سے درگزر کرنے والے اور ان کی مُقِيلًا لِلْعَثَرَاتِ مُتَجَاوِزًا عَنِ خطاؤں سے چشم پوشی کرنے والے بنو اور نیک دل اور پاک اور۔