تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 221
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة الفاتحة ( يَقْبَلُهَا الْمَوْلَى بِاِمْتِنَانِه هِيَ التَّذَ تُل | کرم و احسان سے قبول فرماتا ہے وہ درحقیقت چند امور پر التام برُؤيَةِ عَظمَتِهِ وَ عُلُو شَايه مشتمل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی بلند و بالا شَأْنِهِ وَالشَّنَآءُ عَلَيْهِ بِمُشَاهَدَةِ مِدَيهِ وَأَنواع شان کو دیکھ کر مکمل فروتنی اختیار کرنا نیز اس کی مہربانیاں اور إحْسَانِهِ۔وَإِيْقَارُه عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مَحَبَّةِ قسم قسم کے احسان دیکھ کر اس کی حمد و ثنا کرنا، اس کی ذات حَضْرَتِهِ وَتَصَورٍ مَحَامِد وَجَمَالِهِ و سے محبت رکھتے ہوئے اور اس کی خوبیوں جمال اور ٹور کا لَمَعَانِهِ۔وَتَطْهِيرُ الْجَنَانِ مِن وَسَاوِس تصور کرتے ہوئے اسے ہر چیز پر ترجیح دینا اور اس کی جنت الْجَنَّةِ نَظُرًا إِلى جِنانِهِ۔وَ مِنْ أَفَضَلِ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو شیطانوں کے وسوسوں الْعِبَادَاتِ أَنْ يَكُونَ الْإِنْسَانُ مُحَافِظا سے پاک کرنا ہے۔اور سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي أَوَائِلِ انسان التزام کے ساتھ پانچوں نمازیں ان کے اول وقت أوْقَاتِهَا۔وَأَنْ تَجْهَدَ لِلْحُضُورِ وَ التَّوْقِ پر ادا کرنے اور فرض اور سنتوں کی ادائیگی پر مداومت رکھتا ہو وَالشَّوْقِ وَتَحْصِيْلِ بَرَكَاتِهَا مُوَاظِبا اور حضور قلب ، ذوق ، شوق اور عبادت کی برکات کے حصول عَلى أَدَاءِ مَفْرُوضَاعِهَا وَمَسْنُونَاتِهَا۔میں پوری طرح کوشاں رہے کیونکہ نماز ایک ایسی سواری فَإِنَّ الصَّلاةَ مَرْكَبُ يُوصِلُ الْعَبْدَ إلى ہے جو بندہ کو پروردگار عالم تک پہنچاتی ہے۔اس کے ذریعہ رَبِّ الْعِبَادِ فَيَصِلُ بها إلى مَقَامٍ لَّا (انسان) ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں گھوڑوں کی يَصِلُ إِلَيْهِ عَلَى صَهَوَاتِ الْجيّادِ پیٹھوں پر بیٹھ کر ) نہ پہنچ سکتا۔اور نماز کا شکار ( ثمرات) وَصَيْدُهَا لَا يُصَادُ بِالهَامِ۔ویڈھا لا تیروں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا اس کا راز قلموں سے ظاہر يَظْهَرُ بِالْأَقْلَامِ وَمَنِ الْعَزَمَ هذه نہیں ہو سکتا ہے اور جس شخص نے اس طریق کو لازم پکڑا اس اور الطريقة۔فَقَدْ بَلَغَ الْحَقِّ وَ الْحَقِيقَةُ وَ نے حق اور حقیقت کو پالیا اور اس محبوب تک پہنچ گیا جو غیب أَلْقَى الْحِبَّ الَّذِي هُوَ في مُجبِ الْغَيْبِ وَ کے پردوں میں ہے اور شک وشبہ سے نجات حاصل کر لی۔نَجَا مِنَ الشَّكِ وَالرَّيْبِ۔فَتَرَى أَيَّامه پس تو دیکھے گا کہ اس کے دن روشن ہیں اس کی باتیں موتیوں غُرَرًا وَ كَلَامَهُ دُرّرًا وَ وَجْهَهُ بُنڈا کی مانند ہیں اور اس کا چہرہ چودھویں کا چاند ہے۔اس کا وَمَقَامَهُ صَدْرًا وَ مَنْ ذَلَّ لِلهِ في مقام صدر نشینی ہے جو شخص نماز میں اللہ تعالیٰ کے لئے صَلَوَاتِهِ أَذَلَّ اللهُ لَهُ الْمُلُوكَ وَيَجْعَلُ عاجزی سے جھلکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے بادشاہوں کو جھکا -