تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 219
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۹ سورة الفاتحة يَتَّبِعَ هُدَاهُ وَيَكُونَ مِنَ الْمُطَاوِعِينَ | فرمانبرداروں میں شمار نہ ہو سکے گا۔ایک اور خادم جو نیک وَخَادِمُ أَخَرُ مُخلِصْ أَمِينٌ و مَع ذلك نیت اور دیانت دار بھی ہو اور ساتھ ہی محنتی بھی ہو اور مُجَاهِدٌ وَلَيْسَ بِقَاعِد كالآخرين و لكنه دوسروں کی طرح بیٹھے رہنے والا نہ ہو لیکن بے وقوف ہو اور جَهُولٌ لَّا يَفْهَمُ هِدَايَاتِ مَخدُومِهِ و آقا کی ہدایت کو نہ سمجھ سکتا ہو اور گمراہوں کی طرح بار بار يُخلى ذَاتَ مِرَارٍ كَالضَّالِّينَ فَمن غلطیاں کرتا ہو، اپنی جہالت کی وجہ سے کئی دفعہ ممنوع جَهْلِهِ رُبَّمَا يَجْتَرِهُ عَلَى الْمَسْمُنوعات و کاموں پر جرات کر بیٹھتا ہو، اپنے آپ کو خطرے کے يُوقِعُ نَفْسَهُ فِي الْمُخَاطرات و مقامات اور ممنوع جگہوں میں ڈال دیتا ہو اور انتہائی بے وقوفی الْمَحْظُورَاتِ وَيَبْعُدُ عَنْ مَرْضَاةِ المَولی کی بناء پر آقا کی خوشنودی حاصل نہ کرسکتا ہو اور بسا اوقات مِنْ جَهْلٍ جَاذِبِ مِنَ الْجَهَلَاتِ وَرُبما وہ اپنے مالک کی عمدہ عمدہ چیزوں کو، اس کے موتیوں کو اور يُضِيعُ نَفَأَيْسَ الْمَوْلى وَدُرَرَة وَجَوَاهِرَةُ اس کے جواہرات کو اپنی کمال بے وقوفی ، نادانی اور نا سمجھی کی مِنْ كَمَالِ جَهْلِهِ وَحَمْقِهِ وَسُوءِ فَهْیه و وجہ سے ضائع کر دیتا ہو اور اپنی بدحواسی کی وجہ سے اشیاء کو يَضَعُ الْأَشْيَاء في غَيْرِ حَلْهَا مِن زَيْع ان کی اصل جگہ کے علاوہ کہیں اور جگہ رکھ دیتا ہو تو ایسا خادم وَهْبِهِ فَهَذَا الْخَادِمُ أَيْضًا لَّا يَسْتَطِيعُ بھی آقا کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتا۔اور اس کی نادانی أَنْ يَسْتَحْصِلَ مَرْضَاتِ الْمَخْدُومِ اسے ہر بار اپنے مالک کی نظروں سے گرا دیتی ہے۔پس وہ وَيُسْقِطَه جَهْلُهُ كُلَّ مَرَّةٍ عَنْ أَعْيُنٍ ذلیل و محروم انسان کی طرح روتا رہتا ہے اور اس طرح مَوْلَاهُ فَيَبْكِي كَالْمَوْقُومِ وَ كَذلِك ہمیشہ ایک قابل ملامت ملعون انسان کی مانند زندگی کے دن يَعِيشُ دَائِمًا كَالْمَلْعُوْنِ الْمَلُوْمِ وَلَا پورے کرتا ہے۔وہ کبھی قابلِ تعریف لوگوں میں شامل نہیں يَكُونُ مِنَ الْمَمْدُوحِينَ۔بَلْ يَدَاهُ الْمَوْلى ہو سکتا۔بلکہ اس کا مالک اسے ( ہمیشہ ) منحوس جیسا سمجھتا كَالْمَنْحُوْسِ الَّذِي لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ فِي سَيْرٍ ہے۔جو اپنی بھاگ دوڑ سے کبھی بھی کسی بھلائی ( کی خبر ) ويُخْرِبُ يُفْعَتَه وَ رِحَالَه وأَمْوَالَهُ في كُل نہیں لاتا۔وہ ( خادم ) اس کی زمینوں ، اس کے مکانات اور اس کے اموال کو ہر وقت برباد کرتا رہتا ہے۔وَأَمَّا الْخَادِمُ الْمُبَارَكَ وَالْعَبْدُ لیکن مبارک خادم اور متبرک بندہ وہ ہوتا ہے جو اپنے حِينٍ الْمُتَبَرَكَ الَّذِي يُرْضى مَوْلاهُ وَلَا يَتْرُكُ | مالک کو راضی رکھتا ہے اور اس کی ہدایت کے کسی نکتہ کو نظر