تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 215
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۵ سورة الفاتحة دو اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اُس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزشِ محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اُس کی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اُسی کی درد میں لذت ہو اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اُس کے بغیر دل کو کسی کیسا تھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے مگر یہ حالت بجز خدا تعالیٰ کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو؟ اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو۔خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتا۔اُس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے۔خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اُسی پر توکل کرے اور اُسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اُسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اُسی کی یاد کو سمجھے۔۔۔۔۔یہ بہت تنگ دروازہ ہے اور یہ شربت بہت ہی تلخ شربت ہے۔تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ میں سے داخل ہوتے اور اس شربت کو پیتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۵،۵۴) خدا نے جو انسان کو بنایا اور اُس کے لئے شریعت اور حدود اور قوانین مقرر کئے تو اس سے یہ غرض نہیں کہ انسان کو نجات حاصل ہو بلکہ انسان تو تعبدِ ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔سواُس کے تدین سے یہی غرض تعبدِ ابدی ہے۔ہاں اس غرض کا نتیجہ ضرور یہ نجات ہے جس کا حصول اصل مقصود کے حصول پر موقوف ہے۔اور شریعت اور احکام سے یہ غرض بھی نہیں کہ انسان گناہوں سے پاک ہو کیونکہ گناہوں سے پاک ہونا بھی اصل مقصود کا ایک نتیجہ لازمی ہے۔سو جب انسان تعبد اور اطاعت کا طریق اختیار کرتا ہے تو بالضرور گناہ سے دور رہ کر پاک ہو جاتا ہے۔اور جب گناہ سے پاک ہو جاتا ہے تو گناہ کے پھلوں سے نجات پاتا ہے۔سوطریق نجات یہ ہے کہ صدق اور ثبات کے ساتھ اس مبدء انوار کے سامنے کھڑے ہونا جہاں سے نور کی کرنیں اُترتی ہیں اور وہ کھڑا ہونا دوسرے لفظوں میں استقامت کے نام سے موسوم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ (هود: ۱۱۳) اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص اس مبدء انوار کے سامنے کھڑا ہو گا اس پرنور کی کرنیں پڑیں گی اور نور کے اُترنے سے وہ ظلمت دور ہوگی جس کو گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ کوئی ظلمت بغیر نور کے اُترنے کے دور نہیں ہو سکتی خدا تعالیٰ نور کو کروڑہا کوس سے نیچے اُتارتا ہے تا ظلمت