تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 214

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۴ سورة الفاتحة معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نے سبقت کی ہوئی ہے ايَّاكَ نَعْبُدُ بھی کسی قوت نے کہلوایا ہے اور وہ قوت جو پوشیدہ ہی پوشیدہ اِتناكَ نَعْبُدُ کا اقرار کراتی ہے کہاں سے آئی کیا خدا تعالیٰ نے ہی وہ عطا نہیں فرمائی ہے؟ بیشک وہ خدا تعالیٰ کا ہی عطیہ ہے جو اس نے محض رحمانیت سے عطا فرمائی ہے۔اس کی تحریک اور توفیق سے یہ ايَّاكَ نَعْبُدُ بھی کہتا ہے اس پہلو سے اگر غور کریں تو اس کو تاخر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کو تقدم ہے یعنی جب یہ قوت اس کو اس بات کی طرف لاتی ہے تو یہ تاثر ہو گیا اور بصورت اوّل تقدم۔اسی طرح ہر سلسلہ نبوت کی فلاسفی کا خلاصہ یا مفہوم ہے۔(الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مؤرخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۵) خداوند کریم نے پہلی سورہ فاتحہ میں یہ تعلیم دی ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اس جگہ عبادت سے مراد پرستش اور معرفت دونوں ہیں اور دونوں میں بندہ کا عجز ظاہر کیا گیا ہے۔دو الحکم جلد ۳ نمبر ۳۳ مؤرخه ۳۰/جون ۱۸۹۹ء صفحه ۳) عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اسی کی عظمت اور اسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔اوعیہ ماثورہ اور دوسری دُعائیں خدا سے بہت مانگے اور بہت تو بہ و استغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تا کہ تزکیہ نفس ہو جاوے اور خدا سے پکا تعلق ہو جاوے اور اُسی کی محبت میں محو ہو جاوے۔اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے اور یہ سارا سورہ فاتحہ میں ہی آجاتا ہے۔دیکھو اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اپنی کمزوریوں کا اظہار کیا گیا ہے اور امداد کے لئے خدا تعالیٰ سے ہی درخواست کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور نصرت طلب کی گئی ہے۔اور پھر اس کے بعد نبیوں اور رسولوں کی راہ پر چلنے کی دُعا مانگی گئی ہے اور ان انعامات کو حاصل کرنے کے لئے درخواست کی گئی ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں اور جو انہیں کی اتباع اور انہیں کے طریقہ پر چلنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دُعا مانگی گئی ہے کہ ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا اور اس جہان میں ہی ان پر غضب نازل ہوا۔یا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا اصلی مقصود سمجھ لیا اور راہ راست کو چھوڑ دیا۔(الحکم جلد نمبر ۳۸ مؤرخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱) انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پر ستار الہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اُس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے۔